1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون نہیں چھوڑیں گے، یونانی وزیر خزانہ

یونانی وزیر خزانہ وینیزیلوس نے بے یقینی کی شکار مالیاتی منڈیوں اور یورپی یونین میں اپنے ساتھی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ یونان آئندہ بھی یورپی یونین کے یورو زون کا حصہ رہے گا۔

default

یونانی وزیر خزانہ ایوانگیلوس وینیزیلوس

واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کا ایک اجلاس مقامی وقت کے مطابق ہفتے کو رات گئے تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں زیادہ تر یہی موضوع چھایا رہا کہ آیا یونان اپنے مالیاتی بحران پر قابو پا لے گا یا یہ صورت حال یورپی سطح کے ایک اور بھی بڑے مالی بحران کی وجہ بنے گی؟
آئی ایم ایف کے اس اجلاس کے شرکاء کو تشویش تھی کہ اگر یونان کی وجہ سے یونانی یا دیگر یورپی بینکوں کے دیوالیہ ہو جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پوری عالمی معیشت کو شدید دھچکہ لگے گا۔ اس پر اجلاس میں شریک یونانی وزیر خزانہ ایوانگیلوس وینیزیلوس Evangelos Venizelos نے ان خدشات کو سرے سے رد کر دیا کہ یونانی ریاست کو دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس اجلاس کے بعد یونانی وزیر خزانہ نے جرمنی، فرانس، اٹلی، اور بیلجیئم کے وزرائے خزانہ سے بھی ایک علیحدہ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا، “یونان کبھی بھی یورو زون نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی کبھی دیوالیہ ہو گا۔ اس لیے کہ یونان کا یورو زون سے اخراج یا اس کا دیوالیہ ہو جانا یورو زون اور اس سے ہٹ کر بہت سے دوسرے ملکوں کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ہو گا۔“
یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک اور آئی ایم ایف نے مل کر گزشتہ برس یونان کے لیے ایک سو دس بلین یورو مالیت کے ایک ہنگامی امدادی پیکج کی منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ لیکن یہ امداد اس شرط پر دی گئی تھی کہ ایتھنز حکومت بہت زیادہ مالی بچت کا مظاہرہ کرے گی، بجٹ میں خسارے کو کم کرے گی اور وسیع تر مالیاتی اصلاحات بھی متعارف کرائے گی۔ لیکن یونان کے لیے اس مالی پیکج کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی منڈیاں ایتھنز کی مالی حالت کے بارے میں ابھی تک تشویش کا شکار ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یونان میں ریاست کے ذمے قرضوں کی مجموعی مالیت اب بھی اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 160 فیصد سے زائد بنتی ہے۔
اس بارے میں یونانی وزیر خزانہ نے ہفتے کو رات گئے واشنگٹن میں کہا کہ یونان خود پر عائد ہونے والی تمام مالیاتی ذمہ داریاں ہر حال میں پوری کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ وینیزیلوس کے بقول کوئی سرکاری بانڈ یا مالی ضمانت نامہ ایسا نہیں ہو گا، جس کے پیچھے ایتھنز حکومت کی ضمانت نہ ہو۔
یونانی وزیر خزانہ آج اتوار کو آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارد سے بھی ملنے والے ہیں۔ اس ملاقات میں یونانی کو ہنگامی امدادی پیکج کی قسط وار ادائیگی کے بارے میں بات کی جائے گی۔ وینیزیلوس نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات کے نتیجے میں یونان کے لیے منظور کردہ قرضوں کی اگلی قسط اکتوبر کے شروع تک فراہم کر دی جائے گی۔

 

رپورٹ: عصمت جبیں
ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس