1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون بیل آؤٹ فنڈ میں چینی سرمایہ کاری

سفارتی ذرائع کے مطابق چین اس بات پر راضی دکھائی دیتا ہے کہ وہ یورو زون کے بیل آؤٹ فنڈ میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس مناسبت سے یورو زون کے لیے قائم کردہ فنڈ EFSF کے سربراہ چین کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

default

آج بدھ کے روز بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے لیڈران ایک خصوصی میٹنگ میں شریک ہیں اور وہ یورو زون کے قرضوں کے بحران کے حل کے لیے مناسب حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں ہیں۔ برسلز سے جاری ہونے والے اعلان کے مطابق یورو زون کے ممالک میں قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے قائم یورپی فنانشل اسٹبیلیٹی فیسیلٹی (European Financial Stability Facility) کے سربراہ کلاؤز ریگلنگ (Klaus Regling) سربراہ اجلاس کے فوراً بعد جمعرات کو بیجنگ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

پرسوں جمعہ کے روز ریگلنگ چینی دارالحکومت میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس ویک اینڈ پر وہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو بھی جائیں گے۔ جاپان بھی یورپی فنانشل اسٹبیلیٹی فیسیلٹی کے بانڈز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔ ایسے ہی جنوری میں جاری ہونے والے بانڈز کو جاپانی حکومت نے بیس فیصد خریدا تھا۔

کلاؤز ریگلنگ چینی دورے کے دوران کن میزبان شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے، اس بارے میں تاحال اعلان ہونا باقی ہے۔ ادھر چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق چین اور دوسری ابھرتی اقتصادیات کی حامل اقوام یورو زون کے بیل آؤٹ فنڈ کے قیام کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔ ابھرتی اقتصادیات کی جانب سے سرمایہ کاری انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے توسط سے کی جانے کو بھی چینی اخبار نے رپورٹ کیا ہے۔

برسلز میں دو اعلیٰ یورپی سفارتکاروں کے مطابق چین یورپی بیل آؤٹ فنڈ میں سرمایہ کاری کے لیے رضامند دکھائی دیتا ہے۔ ایک سفارت کا یہ کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کی مناسبت سے چین تیار ہے جب کہ برازیل، روس، بھارت اور جنوبی افریقہ کی جانب سے ابھی کوئی جواب سامنے نہیں آ یا ہے۔ سفارتکاروں نے چینی سرمایہ کاری کے حجم بارے کچھ واضح نہیں کیا۔ ایک سفارتکار کے مطابق یورپی بیل آؤٹ فنڈ کے لیے سرمایہ فراہم کرنے پر اجنٹائن نے سردست انکار کردیا ہے۔

Chinesische Währung Renminbi FLASH-GALERIE

چینی کرنسی یوان ایک مضبوط کرنسی خیال کی جاتی ہے

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ژیانگ یُو کا کہنا ہے کہ بیجنگ حکومت کھلے ذہن کے ساتھ اس معاملے کو یورپی اقوام کے ساتھ زیر بحث لا سکتی ہے تا کہ کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین وسیع بنیادوں پر یورپی فریق کے ساتھ مشترکہ ترقیاتی عمل کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ بیل آؤٹ فنڈ میں معاونت کے حوالے سے چینی وزارت خزانہ، مرکزی بینک اور فارن ایکسچینج ریگو لیٹر ادارے کی جانب سے فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مبصرین کے مطابق یورپی اقوام کی جانب سے بیل آؤٹ فنڈ کے لیے ابھرتی اقتصادیات کی حامل اقوام کو سرمایہ کاری کے لیے قائل کرنے کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور یہ یورپ کے جمود کے شکار ہونے والے اقتصادی پہیے کی حرکت میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ہانگ کانگ میں قائم ایک مالیاتی ادارے Thaddeus Capital کے چیف ایگزیکٹو پال شیئن کے مطابق اگر ایسا ممکن ہو جاتا ہے تو ایک طرح سے یورپ کے خراب اور دیرپا اور ناقابل ادا قرضوں کی چین کی جانب سے خرید کا عمل شروع ہو جائے گا۔

یورپی یونین نے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے چار سو چالیس ارب یورو سے ایک فنڈ قائم کردیا ہے۔ اس فنڈ میں اضافے کے لیے بیرونِ یورپ سے سرمایہ کاری کے امکانات کی مناسبت سے بحث جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس