1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون بحران پر غور کے لیے پیرس میں جی ٹونٹی کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

آج جمعے کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ جی ٹونٹی کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں یورو زون کے قرضوں کے بحران کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے گی۔

default

فرانس کی وزارت خزانہ کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ دو روزہ اجلاس ایک ایسی صورت حال کے تناظر میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں جی ٹونٹی کی کامیابی کا انحصار یورو زون کے استحکام پر ہو گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں جی ٹونٹی کے وہ رکن ممالک بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے، جن کا تعلق یورو زون سے نہیں ہے۔

کینیڈا کے وزیر خزانہ جم فلیہرٹی نے جمعرات کو اوٹاوا سے روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ یورو زون کی جانب سے بحران کو حل کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

Symbolbild Eurozone Krise

جی ٹونٹی کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں یورو زون کے قرضوں کے بحران کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے گی

یورو زون کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں فرانس اور جرمنی میں بینکوں کو مزید سرمایے کی فراہمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہونا باقی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یورو زون کے لیے ایک مشترکہ بانڈ جاری کرنے کے تصور پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

یہ امکان موجود ہے کہ فرانس اور جرمنی بحران سے نمٹنے کے لیے بینکوں سے یونان کو دیے گئے قرضوں پر نقصان قبول کرنے کو کہیں گے اور مشکلات کے شکار بینکوں کو مزید سرمایے کی فراہمی کا طریقہ کار وضع کر لیں گے۔ بنیادی چیز European Financial Stability Fund یعنی یورپ کے مالی استحکام کے فنڈ کی طاقت میں اضافہ کرنے اور اقتصادی رابطہ کاری پر اتفاق کرنا ہے۔

تاہم اس اجلاس میں عالمی مالیاتی عدم توازن کا اندازہ لگانے اور اجناس کی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور قیاس آرائیوں پر مبنی سرمایے کی آمد جیسے معاملات زیر غور نہیں آئیں گے۔ ان اور دیگر معاملات پر تفصیلی غور 23 اکتوبر کو برسلز میں یورو زون کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

Treffen Merkel-Sarkozy in Berlin Bilder der Woche kw41 Flash-Galerie

یورو زون کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں فرانس اور جرمنی میں بینکوں کو مزید سرمایے کی فراہمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہونا باقی ہے

اجلاس کے ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ چین پیرس اجلاس میں ایک پانچ سالہ منصوبے کے ذریعے اپنے ملک میں اشیائے صرف کی خریداری کے رجحان کو فروغ دینے سے وابستگی ظاہر کرے گا۔

اپریل میں ہونے والے جی ٹونٹی کے اجلاس میں سات بڑی معیشتوں کو زیر نگرانی رکھا گیا تھا جن میں امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور بھارت شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران رواں ہفتے میں ہونے والی بعض پیشرفتوں کا بھی جائزہ متوقع ہے جن میں امریکی سینیٹ میں بیجنگ پر اپنی کرنسی کی قدر میں اضافہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کے بل کی منظوری اور جمعرات کو ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کی جانب سے اسپین کی درجہ بندی AA سے گھٹا کر AA- کرنا شامل ہیں۔ اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری، بینکوں سے قرضوں کی دستیابی میں کمی اور نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے قرضوں کو درجہ بندی میں کمی کے فیصلے کی وجہ بتایا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM