1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون بحران، جرمنی اور فرانس میں کوئی اختلاف نہیں: سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کہا ہے کہ بجٹ خسارے کے حوالے سے یورپی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے یورو زون ممالک پر سخت ترین جرمانوں کے حوالے سے جرمنی اور فرانس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

default

یہ بیان فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے برطانیہ کے نئے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ہمراہ پیرس میں ایک مشترکہ کانفرنس کے موقع پر دیا۔ سارکوزی نے کہا کہ یورو کے استحکام کے حوالے سے جرمنی اور فرانس کی سوچ میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے۔ سارکوزی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب یہ کہا جا رہا تھا کہ مالیاتی اداروں کی سخت ترین نگرانی کے حوالے سے میرکل اور سارکوزی کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

آج برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خزانہ ایک انتہائی اہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ اس اجلاس میں یورو کرنسی کے عدم استحکام اور یورو زون میں شامل ممالک کے بجٹ خساروں کے یورو پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی گفتگو ہو گی۔

Europäische Königskinder Flash-Galerie

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی یورو زون میں سخت ترین مالیاتی نظام کے حق میں ہیں

سارکوزی نے پیرس میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یورو کے استحکام کے لئے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک مل کر کام کر رہے ہیں اور انہیں میرکل کے خیالات سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے حوالے سے بھی کہا:’’ہم میں کوئی اختلاف نہیں، اسی لئے اکٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔‘‘

اس موقع پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نےکہا کہ وہ بھی انگیلا میرکل سے رابطے میں ہیں:’’ہم روزانہ کی بنیاد پر مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘

سارکوزی نے کہا کہ وہ مالیاتی نظام میں سختی کے حوالے سے انگیلا میرکل کے خیالات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں:’’میرے اور چانسلر میرکل کے درمیان اس بات پر بھرپور اتفاق ہے کہ شدید بجٹ خسارے کے حامل ممالک کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں اور جرمانے عائد کئے جائیں۔‘‘

برلن حکومت کا مطالبہ ہے کہ یورو زون میں شامل جن ممالک کی وجہ سے یورو کرنسی بحران کا شکار ہو، ان پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے یورپی فنڈز پر قدغن اور ان کے ووٹ کے حق کو ضبط کیا جانا چاہئے۔

سارکوزی نے کہا کہ انہوں نے بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ یورپی یونین کے مالیاتی قوانین توڑنے والے ممالک کو چند یورپی اجلاسوں میں ووٹنگ کے حق سے محروم کر دیا جانا چاہئے۔

دریں اثناء جرمن چانسلر کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چانسلر میرکل اور صدر سارکوزی کے درمیان ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، جس میں جمعے کے روز برسلز میں وزرائے خزانہ کے اجلاس میں مشترکہ رائے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM