1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون بحران، امیدیں بھی خدشات بھی

اتوار کے روز یورو زون میں شامل ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت اپنے ایک اہم اجلاس میں یورو زون بحران کے حل کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنے والے ہیں۔

default

امید کی جا رہی تھی کہ یورپی رہنما اس ملاقات میں کسی متفقہ اور قابل قبول حل پر آمادہ ہو جائیں گے تاہم جرمنی اور فرانس کے درمیان اس سلسلے میں پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کل اتوار کے روز یورو زون ممالک کے سربراہان اگر کسی متفقہ حل تک پہنچنے میں ناکام ہو گئے، تو ممکنہ طور پر مالیاتی منڈیوں کو دھچکا پہنچے گا۔ اتوار کو یورپی ممالک کے سربراہوں کی اس سمٹ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ وہ یورو زون بحران کے حل کے لیے کسی ٹھوس اقدام کا اعلان کریں گے۔ اس سے قبل دنیا کی ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ 20 کے اجلاس میں یورو زون ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کریں کیوں کہ اس کا اثر اب عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

اس اجلاس میں سخت مالیاتی بحران کے شکار ملک یونان کے لیے مزید امدادی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ساتھ یورپی بینکوں کے استحکام کے لیے اقدامات کی توقع بھی کی جا رہی تھی تاہم اس سلسلے میں یورپ کی دو بڑی معیشتوں جرمنی اور فرانس کے درمیان باہمی اختلافات میں کمی کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہ آنے کے باعث یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا یورپی رہنما اس مسئلے کے کسی فوی اور موثر حل پر جلد متفق ہوں گے بھی یا نہیں۔

NO FLASH Nicolas Sarkozy und Angela Merkel in Paris

جرمنی اور فرانس کے درمیان اس مسئلے کے سلسلے میں اختلاف پائے جاتے ہیں

جمعرات کے روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے دفاتر سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کو اس سلسلے میں کسی ٹھوس حل کی طرف بڑھنے اور اپنے باہمی اختلافات میں کمی کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔ اتوار کے روز کی ملاقات کے بعد یورپی رہنما کسی متفقہ حل تک پہنچنے کے لیے اگلے ہفتے ایک مرتبہ پھر ملیں گے۔ مبصرین کے خیال میں اگلی سربراہی ملاقت بدھ کے روز ہو سکتی ہے۔

جرمنی اور فرانس کا کہنا ہے کہ مستقبل کے لاحہ عمل کے حوالے سے اتوار کے روز برسلز میں ہونے والے اجلاس میں تفصیلی گفت و شنید ہو گی۔ جرمن چانسلر کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انگیلا میرکل پرامید ہیں کہ یورپ درست راستے پر گامزن ہے اور باہمی صلاح مشورے سے جلد ہی یورو زون کے استحکام کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

یورپی حکام کا خیال ہے کہ یوروزون ممالک اب بھی یوروبحران کے حل کے لیے پیش کردہ تجاویز میں متعدد معاملات پر یکسر متضاد خیال رکھتے ہیں، جن میں یونان، یورپی بینکوں اور بیل آؤٹ فنڈ جیسے بنیادی معاملات شامل ہیں۔

جرمنی اور دیگر امیر یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ یونان کے لیے کسی نئے امدادی پیکیج پر دستخطوں سے قبل بینک اور پرائیویٹ سرمایہ کار یونان کے بجٹ خسارے میں کمی لیے کچھ نقصان برداشت کریں۔ دوسری جانب فرانس اور متعدد دیگر یورپی ممالک یونان کے ذمے واجب الادا قرضوں کی معافی کے لیے بینکوں کو مجبور کرنے کے مخالف ہیں۔ پیرس کا کہنا ہے کہ اس طرح یورپی بینک غیرمستحکم ہوں گے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM