1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورو ریاستوں کے قرضوں کی مالیت 7.6 ٹریلین یورو

ستائیس رکنی یورپی یونین کے سولہ ملکی یورو زون میں شامل ریاستوں میں گزشتہ برس کے آخر تک عوامی شعبے کے ذمہ قرضوں کی مجموعی مالیت سات ٹریلین 62 بلین 625 ملین یورو بنتی تھی۔

default

یورو زون کا ہر ملک اپنے سالانہ بجٹ میں خسارے کو زیادہ سے زیادہ تین فیصد تک رکھنے کا پابند ہے

یورو زون میں فی کس بنیادوں پر ان ریاستی قرضوں کی مالیت 21 ہزار 90 یورو فی شہری بنتی تھی۔ دو ہزار نو میں یورپی یونین کے یورو زون کی ریاستوں میں سے جن ملکوں میں ریاستی قرضوں کی شرح انتہائی زیادہ رہی، ان میں یونان اور آئرلینڈ سر فہرست ہیں۔

جن ملکوں میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ان قرضوں کی مالیت مجموعی طور پر سب سے کم بنتی تھی، ا ن میں آسٹریا اور جرمنی بھی شامل تھے۔ لیکن سال رواں کے دوران یورو زون کی ریاستوں میں عوامی شعبے کے ذمہ ان قرضوں کی مالیت اس لئے اور بھی زیادہ ہو جائے گی کہ یونان، سپین، اٹلی، آئرلینڈ اور پرتگال جیسے ملکوں میں سالانہ بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کی کوششیں ابھی تک بہت کامیاب نہیں ہوئیں۔

Symbolbild Haushalt - Dossierbild 3/3

انتہائی مقروض ملک یونان کی بحرانی صورت حال جلد ہی یورو کا بحران بن گئی

بہت سے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی قرضوں سے متعلق اس بحران کے حوالے سے اگر کسی ایک ملک کا ذکر کیا جائے، تو فوری طور پر ذہن میں یونان کا نام آتا ہے۔ لیکن یونان وہ واحد ملک نہیں ہے جو مسلسل قرضوں کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔

جرمنی یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے۔ برلن حکومت یونان اور مالی طور پر بحران زدہ دیگر یورپی ملکوں کی مدد کے لئے بوقت ضرورت 148 بلین یورو تک کے مالی وسائل مہیا کرنے کی یقین دہانی کرا چکی ہے۔ لیکن خود جرمن ریاست کو بھی قرضوں کے بے تحاشا بوجھ کا سامناہے۔

جرمن ریاست کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی مالیت سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1.8ٹریلین یورو کے قریب ہے اور ان رقوم میں ہر لمحے ساڑھے چار ہزار یورو کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر جرمنی کی مجموعی قومی پیداوار کو دیکھا جائے تو ان قرضوں کی مالیت جرمن GDP کا 77 فیصدبنتی ہے، حالانکہ یورپی مالیاتی اتحاد کی بنیاد بننے والے یورپی استحکامی معاہدے کے تحت کسی بھی رکن ملک کے ذمے ایسے ریاستی قرضوں کی کُل مالیت مجموعی قومی پیداوار کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

Symbolfoto Geiz Geizhälse

مالی بے یقینی کا لازمی نتیجہ بچت کا فیصلہ

ایسے میں کیا جرمنی اس بات کا متحمل ہو سکتا ہے کہ خود اپنی مالی حالت بہتر بنانے کے بجائے یورپی یونین کی رکن دیگر ریاستوں کی مدد کرنے لگے۔اس بارے میں جرمنی کی فرائی بُرگ یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کے ڈائریکٹر اورمالی امور کے معروف ماہر بَیرنڈ رافَیل ہیُوسشن کہتے ہیں: ’’ہمیں یورپی سطح پر رکن ملکوں کے بجٹ معاملات میں زیادہ نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ اگر قرضوں کے معاملے میں یکجہتی اور متفقہ سوچ کا اظہار کیا جاتا ہے، تو لازمی طور پر بجٹ سے متعلقہ امور کی نگرانی میں بھی اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔‘‘

یورو زون کی ریاستوں میں سے جرمنی وہ واحد ملک ہے، جہاں عوامی شعبے کے ذمہ قرضوں کی مالیت میں اضافے کو روکنے کا معاملہ مروجہ ملکی قوانین میں واضح طور پر درج ہے۔ اسی قانون کے تحت سن 2016 میں وفاق جرمنی اور سن 2020 سے وفاقی صوبوں کو نئے قرضے حاصل کرنے سے لازمی طور پر روک دیا جائے گا۔

لیکن فرائی بُرگ یونیورسٹی کے بیرنڈ رافَیل ہیُوسشن کہتے ہیں نئے قرضوں کے حصول کو قانونی طور پر بہت پہلے ہی روک دینا چاہئے تھا۔ اس لئے کہ جرمن ریاست گزشتہ کئی برسوں سے اپنی صلاحیت اور حیثیت سے کہیں زیادہ مالی وسائل کے استعمال کی مرتکب ہو رہی ہے۔

Estland Flagge

اگلے سال یکم جنوری سے ایسٹونیابھی یورو زون میں

’’سن 2008 میں جرمن ریاست کو ٹیکسوں کی مد میں اتنی زیادہ آمدنی ہوئی، جتنی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ ریاست کو ٹیکسوں کی مد میں ہونے والی اس تاریخی حد تک زیادہ آمدنی کے باوجود ہم اس قابل نہ ہو سکے کہ بجٹ میں اگر منافع نہ ہوتا، تو کم ازکم خسارہ بھی نہ ہوتا۔میری رائے میں تو صرف اس ایک حقیقت سے بھی بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔‘‘

جرمنی کے سالانہ بجٹ میں اخراجات کی دوسری سب سے بڑی مد وفاق کے ذمے واجب الادا قرضوں کی واپسی کے لئے کی جانے والی وہ ادائیگیاں ہیں جن کی مالیت کئی بلین یورو بنتی ہے۔

بیرنڈ رافَیل ہیُوسشن کہتے ہیں: ’’وہ فراخدلی جس کا جرمن ریاست مظاہرہ کرتی آئی ہے، اسے اب ماضی کا حصہ بن جانا چاہیے۔ اب ریاست کو کسی بھی وقت یہ پوچھنا پڑ سکتا ہے کہ عام شہری ریاست کے لئے کیا کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ عوام یہی سوچتے رہیں کہ یہ کام بھی ریاست ہی کرنے کرنے دیا جائے۔‘‘

جرمن ٹیکس دہندگان کی وفاقی تنظیم کے مطابق ریاست کے ذمے قرضوں کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ جرمنی اگر آج ہی سے کوئی نئے قرضے نہ لے، اور ہر سال کم ازکم ایک بلین یورو واپس کرنا شروع کر دے، تو بھی ان قرضوں کی مکمل واپسی میں تقریباً 140برس لگیں گے۔ جرمنی کو سرکاری طور پر ہر سال کل جتنی بھی آمدنی ہوتی ہے، اس کا آٹھواں حصہ صرف ان قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM