1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو بحران: اوباما کیمیرکل، سارکوزی اور کیمرون کے ساتھ ویڈیو کانفرنس

امریکی صدر باراک اوباما نے جمعرات بیس اکتوبر کو جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سربراہانِ حکومت کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں یورو زون کے قرضوں کے بحران کے ساتھ ساتھ لیبیا کی صورتِ حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

default

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی ’یورو زون کے معاملات میں جلد از جلد کوئی عملی قدم اٹھانے کی ضرورت سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے کوئی جامع اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ سترہ رُکنی یورو زون کا قرضوں کا یہ بحران، جو یونان کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، اب اس زون میں شامل قدرے بڑے ملکوں مثلاً اسپین اور اٹلی تک بھی پھیلتا نظر آتا ہے۔

امریکی صدر اوباما کے مطابق اُنہیں امید ہے کہ گروپ جی ٹوئنٹی کی تین اور چار نومبر کو فرانس میں مجوزہ سربراہ کانفرنس تک کوئی حل تلاش کر لیا جائے گا۔ جمعرات کی ویڈیو کانفرنس ایک ایسے وقت پر عمل میں آئی ہے، جب واشنگٹن میں یہ خدشات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ یورپ کے مسائل امریکی معیشت میں نظر آنے والی بہتری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس تاثر کو جمعرات ہی کے روز اُس وقت مزید تقویت ملی جب دوپہر کے کھانے پر فیڈرل ریزرو کے چیئرمین Ben Bernanke نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کو یہ بتایا کہ یونان کا قرضوں کا بحران درحقیقت سنبھلنے کی کوشش میں مصروف امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

جرمنی اور فرانس بدستور اس موضوع پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں کہ مشکل معاشی حالات کے شکار یورو زون ملکوں کے لیے مختص بیل آؤٹ فنڈ کو کیسے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ بدھ کو اسی سلسلے میں سارکوزی نے جرمن شہر فرینکفرٹ پہنچ کر جرمن چانسلر میرکل کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک بیل آؤٹ فنڈ کے سلسلے میں ابھی اپنے اختلافات پوری طرح سے دور نہیں کر سکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ دونوں رہنما ہفتہ بائیس اکتوبر کو ایک بار پھر ملاقات کریں گے۔

اتوار کو برسلز میں مجوزہ یورپی یونین سربراہ کانفرنس میں یہ تبادلہ خیال جاری رہے گا جبکہ کوئی حتمی فیصلے یورپی رہنماؤں کی اُس سربراہ کانفرنس میں سامنے آ سکتے ہیں، جس کا ا ہتمام اتوار کی سربراہ کانفرنس کے صرف تین روز بعد آئندہ بدھ کو کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس