1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو امریکی ڈالر پر حاوی

کیا مضبوط امریکی معیشت بتدریج زوال کی طرف گامزن ہے؟ اور افغانستان اور عراق میں امریکی فوجی مداخلت خود امریکہ کے لئے کتنی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے؟ یہ باتیں تو وقت کے ساتھ ہی معلوم ہوں گی لیکن فی الحال امریکی ڈالر ‘ یورو کے مقابلے میں مسلسل بازی ہارتا جا رہا ہے

default

عالمی بازارِحصص میں یورو کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں حالیہ ریکارڈ کمی امریکی معیشت کے لئے قدرے تشویش کا باعث ثابت ہو سکتی ہے۔بدھ کے روز عالمی منڈی میں یورو کی قیمت 1.5ڈالر کی حد کو پار کر گئی۔ عالمی بازارِحصص کے تاجروں کا اندازہ ہے کہ امریکی سُود کی شرح بھی مزید گرے گی جس سے تیل اور سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

امریکی کرنسی کی قیمت میں دوسری بڑی کرنسیوں مثلاً سوئس فرینک اور پاﺅنڈ سٹرلنگ کے مقابلے میں بھی ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ یورو کے مضبوط ہونے میں ریسیرچ انسٹیٹیوٹ Ifo کے اس جائزے کا بھی عمل دخل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یورپی مرکزی بنک کی طرف سے شرحِ سود میں جلد کمی کی جائے گی۔بنک کی گورننگ کونسل کے ممبر Axel Weberنے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کے بنک کی شرح ِسود میں کمی سے متعلقہ توقعات میں افراطِ زر کی شرح میں اضافے کے خطرات کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا تھا۔

1999سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی ہونی شروع ہو گئی تھی اور سن 2003میں عراق پر امریکی حملے سے قبل، فروری میں، پچھلے چار سال میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ تب بھی ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اس وقت یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ اگر امریکہ عراق پر حملہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ گذشتہ سال نومبر کے آخر میں بھی عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی قیمت میں یورو اور ین کے مقابلے میں اچانک اور مسلسل کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں امریکہ کے معاشی استحکام کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی تھی اور ان خدشات کا اظہار کیا جانے لگا تھا کہ امریکی معیشت روبہ زوال ہو رہی ہے۔

یورپی بازارِحصص میں مندی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو دو ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ تاجروں کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نہ صرف کمپنیوں کے منافع پر منفی اثر پڑ رہا ہے بلکہ اس سے صارفین کی قوّتِ خرید بھی متاثر ہو رہی ہے۔