1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورزو زون کے بیل آؤٹ مذاکرات تعطل کا شکار، سارکوزی کی جرمنی آمد

یورو زون میں پائے جانے والے قرضوں کے بحران میں برلن اور پیرس کے درمیان جاری مذاکراتی سلسلہ اٹک گیا ہے۔ اس تناظر میں فرانسیسی صدر سارکوزی بدھ کے روز جرمن چانسلر میرکل سے ملاقات کے لیے فرینکفرٹ شہر پہنچے۔

default

میرکل اور سارکوزی کی ملاقات میں پیش رفت نہیں ہوئی ، ماہرین

یورو زون میں بیل آؤٹ فنڈ کی مناسبت سے جرمنی اور فرانس کی جانب سے مجوزہ پلان میں معاملات الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اس الجھاؤ کو سلجھاؤ دینے کے لیے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی ایک ہنگامی دورے پر جرمن شہر فرینکفرٹ پہنچے اور چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کی۔ جرمن اور فرانسیسی لیڈران کی کوشش ہے کہ اتوار کے روز سے شروع ہونے والی یورپی یونین کی سمٹ سے قبل کوئی نتیجہ حاصل کر لیا جائے۔

مبصرین نے اندازہ لگایا ہے کہ فرینکفرٹ میں ہونے والی سارکوزی، میرکل ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے کیونکہ ملاقات کے بعد دونوں لیڈر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کیے بغیر روانہ ہو گئے۔ یورو زون کے وزرائے خزانہ کے گروپ کے چیئرمین لکسمبرگ کے وزیر خزانہ ژاں کلوڈ ینکر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ میٹنگ کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جو اتوار تک چلے گا۔ ینکر نے بھی مذاکرات میں پیدا شدہ تعطّل کی مناسبت سے کچھ بتانے سے گریز کیا۔

Treffen Merkel-Sarkozy in Berlin Bilder der Woche kw41 Flash-Galerie

میرکل اور سارکوزی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات نہیں کی

بظاہر اختلاف کی بنیادی وجہ فرانس کی جانب سے یورپی یونین کی بیل آؤٹ کی سہولت یعنیEFSF کو ایک بینک کی شکل دینا خیال کی جا رہی ہے۔ فرانس کے مطابق یورپی فنانس اسٹبیلیٹی فیسیلیٹی (EFSF) کو اگر بینک بنا دیا جائے تو یہ یورپی مرکزی بینک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے بحران کی شکار یورپی اقوام کو مالیاتی قرضوں کی فراہمی کرے گا۔ اس تجویز کی برلن حکومت کے ساتھ جرمنی اور فرانس کے مرکزی بینک بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ جرمن چانسلر میرکل نے منگل کے روز کہا تھا کہ یورو زون کے لیڈران یک دم اس مشکل صورت حال کا کوئی حل ڈھونڈ نہیں سکتے۔ میرکل کے مطابق مشاورت کا سلسلہ جاری ہے جو انجام کار کسی نتیجے پر پہنچے گا۔

فرانس میں صدر کے دفتر نے یہ بھی بتایا کہ سارکوزی اور جرمن رہنما یورو زون کے پالیسی ساز شعبوں کے سربراہوں کے ساتھ بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ اور یورپی سینٹرل بینک کے سربراہ ژاں کلوڈ تریشے بھی شریک ہیں۔

جرمنی کی مخالفت کے حوالے سے سارکوزی کا کہنا ہے کہ برلن میں مخلوط حکومت اس معاملے پر منقسم ہے اور صرف چانسلر انگیلا میرکل کو قائل کرنا کافی نہیں ہے۔ یہ بات فرانسیسی رکن پارلیمنٹ Courson Charles de نے بتائی ہے، جو صدر سارکوزی کے ساتھ ظہرانے پر رکھی جانے والی میٹنگ میں شریک تھے۔ اس ریفرنس کے حوالے سے مبصرین اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ کیا اتوار کے روز اندازوں کے مطابق کوئی متفقہ فیصلہ سامنے آ سکے گا یا نہیں۔ ان کے خیال میں اگر کوئی فیصلہ سامنے نہ آیا تو یورپی ملکوں میں قرضوں کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

دوسری جانب اس بحران کے گہرے ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ فرانس کے لیے موڈیز کی وارننگ کے ایک دن بعد موڈیز نے اسپین کے کئی اہم بینکوں کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز موڈیز نے فرانس کی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اس کی اقتصادیات کی موجودہ صورت حال بہتر نہیں رہی ہے اور اس کی کریڈٹ ریٹنگ کی ٹرپل اے کی پوزیشن خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس