1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوایس ایڈ کے سربراہ زیر تنقید تنظیم کےامدادی کیمپ میں

پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب ملک کے چاروں صوبوں میں تباہی پھیلاتا ہوا اب جنوبی صوبہ سندھ تک پہنچ گیا ہے۔ ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو تباہ کرتا ہوا ٹھٹھہ، بدین اور سجاول شہرتک پہنچ چکا ہے۔

default

تباہی کے خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے بدین، ٹھٹھہ اور شہداد کوٹ شہروں کو خالی کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ دوسری جانب ٹھٹھہ سورجانی حفاظتی پشتے میں کوٹ عالموں کے مقام پر شگاف پرنے کے بعد لوپ بند توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹھٹھہ کی تحصیل میر پور بھٹو، سجاول اور دڑوکی چھہ لاکھ آبادی کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، متاثرین کو گولارچی کے اسکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں ٹھہرایا جارہا ہے۔

ادھر قمبر شہر کے ساتھ زیرو پوائنٹ پر ساٹھ فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے پانی جھیل حمل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آر بی او ڈی تھری پر بھی سو فٹ کا شگاف پڑنے سے بیس گاؤں زیر آب آ گئے ہیں، سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی آخری آرام گاہ والے شہر گڑھی خدا بخش کو بچانے کے لیے پوری صوبائی انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ بھی لاڑکانہ پہنچے ہوئے ہیں۔

Überschwemmung in Pakistan Flash-Galerie

سیلاب زدگان کے لئے سکھر میں قائم امدادی کیمپ

متاثرین سیلاب کو خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب امریکی امداد کے ادارے یو ایس ایڈ کے سربراہ ڈاکٹر راجیو شاہ اور کراچی میں تعینات امریکی قونصلر نے سکھر میں جماعت الدعوة کے اس ریلیف کیمپ کا دورہ کیا جو متاثرین کی امداد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس موقع پرامریکی حکام نے امدادی کارروائیوں کو سراہا۔ بعد ازاں امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے وضاحت کی کہ یو ایس ایڈ کے سربراہ نے فلاحِ انسانیت تنظیم کے کیمپ کا دورہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ادارہ جماعت الدعوة کا ذیلی ادارہ ہے۔

پاکستانی تاریخ کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے دنیا بھر سے امدادی کارکن امداد لے کر پاکستان پہنچے ہیں۔ تاہم ان غیر ملکی امدادی کارکنوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ سکیورٹی بنا ہوا ہے۔ امریکی حکام نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہےکہ پاکستانی طالبان سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو نقصان پہنچا سکتےہیں۔ پاکستانی حکام کا بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی امدادی کارکنوں کے حوالے سے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ : رفعت سعید، کراچی

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس