1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوآن کی قدر میں کمی سے چینی امراء اربوں ڈالر سے محروم

چینی کرنسی یوآن کی قدر میں مسلسل تین روز تک کمی کے سرکاری فیصلے سے لاکھوں کروڑ پتی چینی باشندے اربوں ڈالر سے محروم ہو گئے ہیں۔ چین میں قریب چار ملین گھرانے ایسے ہیں جن کی نجی دولت کم از کم بھی ایک ملین ڈالر کے برابر ہے۔

کمیونسٹ نظام حکومت والے چین کے اقتصادی مرکز شنگھائی اور دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک کے سرمایہ دارانہ نظام معیشت والے خصوصی خطے ہانگ کانگ سے جمعرات تیرہ اگست کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ حکومت نے اس ہفتے مسلسل تین روز تک ملکی کرنسی یوآن کی قدر میں کمی کے جو فیصلے کیے، ان پر لاکھوں کروڑ پتی چینی باشندے اب اس وجہ سے پچھتانے لگے ہیں کہ انہوں نے اپنی نجی رقوم اس کمی سے پہلے ہی بیرون ملک منتقل کیوں نہ کیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ حکومت نے منگل، بدھ اور پھر آج جمعرات کے روز یوآن کی قدر میں کمی کے جو متواتر فیصلے کیے، ان کے باعث عوامی جمہوریہ چین کے کئی ملین امراء کی ملکیت رقوم میں یکدم کئی ارب ڈالر کی کمی ہو گئی۔ ایسا اس لیے ہوا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران حکومت کی طرف سے یوآن کی قدر میں مجموعی طور پر قریب ساڑھے چار فیصد کی کمی کر دی گئی۔ اس طرح یوآن کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ بھی ساڑھے چار فیصد کم ہو گئی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہفتے پیر کے روز تک چینی امراء کو زر مبادلہ کی صورت میں ان کے پاس موجود یوآن کے عوض جتنے امریکی ڈالر مل سکتے تھے، آج غیر ملکی کرنسی کے طور پر اس میں 4.5 فیصد کی کمی ہو چکی ہے۔ لیکن اگر قدر میں اس کمی سے پہلے یہی یوآن بیرون ملک بھجوائے جا چکے ہوتے، جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے، تو چینی کروڑ پتی اور ارب پتی باشندے اپنی دولت میں اس ساڑھے چار فیصد کمی سے بچ سکتے تھے۔ یہی لاعلمی میں ہونے والی وہ تاخیر ہے جس پر اب کئی ملین چینی امراء پچھتا رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال دیتے ہوئے ایک چینی کاروباری شخصیت تانگ وائی نے روئٹرز کو بتایا، ’’میں اپنے بیٹے کو تعلیم کے لیے اگلے سال کینیڈا بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس کی وہاں رہائش اور تعلیم پر کافی خرچ آئے گا۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے اثاثے چین سے باہر منتقل کر رہا ہوں۔ لیکن ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے حالیہ حکومتی فیصلوں سے میں یکدم لاکھوں یوآن سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘

بوسٹن گروپ کنسلٹنگ نامی مالیاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں آج قریب چار ملین گھرانے ایسے ہیں، جو نجی دولت کے طور پر فی کس کم از کم بھی ایک ملین ڈالر کے مالک ہیں۔ گزشتہ مہینے چینی بازار حصص میں جو اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا، اس پر کافی لوگ پریشان تھے اور بہت سے پرائیویٹ بینکاروں نے تو اپنے امیر گاہکوں کو یہ مشورے بھی دینا شروع کر دیے تھے کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری بیرون ملک کرنا شروع کر دیں۔

China Yuan Währung Geld

بیجنگ حکومت نے اس ہفتے تین دنوں میں تین مرتبہ یوآن کی قدر میں مجموعی طور پر ساڑھے چار فیصد کی کمی کی

بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے مالیاتی ادارے جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق ان دنوں چین میں اقتصادی ترقی کی شرح اس حیران کن حد تک زیادہ نہیں ہے، جو ماضی میں کئی برسوں سے دیکھنے میں آ رہی تھی۔ ایسے میں امراء نے اپنے وہ اثاثے بیرون ملک منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، جنہیں ماہر بینکار ’ہاٹ منی‘ یا ’گرم سرمائے‘ کا نام دیتے ہیں۔

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ گزشتہ برس کی تیسری سہ ماہی سے لے کر اس سال جون کے آخر تک چینی باشندوں نے اپنی ملکیت جو رقوم بیرون ملک منتقل کیں، ان کی مالیت مجموعی طور پر قریب 235 ارب ڈالر رہی تھی۔

نجی سرمائے کی دیکھ بھال میں پیشہ ورانہ مدد دینے والے شنگھائی میں قائم ایک پرائیویٹ ادارے کے سربراہ تان جیالونگ کے مطابق اس سال مئی کے مہینے سے ان کی کمپنی سے رابطہ کرنے والے ایسے چینی شہریوں کی تعداد واضح طور پر زیادہ ہو چکی ہے، جو اپنی رقوم کو بیرون ملک مختلف اثاثوں کی شکل میں محفوظ کر لینے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

چین میں نافذ مالیاتی قوانین کے تحت کسی بھی شہری کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ سالانہ بنیادوں پر پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی رقوم اپنے ساتھ ملک سے باہر لے جا سکے۔

DW.COM