1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن کے وزیر اعظم وطن لوٹ گئے

یمن کے وزیر اعظم علی محمد مجاور واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ وہ یمن میں صدر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے بم حملے میں زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب میں زیر علاج رہے۔

default

یمن کے سرکاری ٹیلی وژن نے علی محمد مجاور کے وطن لوٹنے کی تصدیق کر دی ہے۔ تین جون کو صنعاء میں صدارتی محل کی مسجد پر ہونے والے بم حملے میں زخمی ہونے والے یمنی حکام سعودی عرب میں زیر علاج تھے جبکہ علی محمد مجاور وطن لوٹنے والے پہلے اعلیٰ حکومتی عہدیدار ہیں۔

اس حملے میں گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ یمنی صدر علی عبداللہ صالح بھی شدید زخمیوں میں شامل تھے، جو سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ انہوں نے سولہ اگست کو ایک بیان میں ’جلد’ وطن لوٹنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

یمن کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین عبدالعزیز عبدالغنی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ریاض میں پیر کو انتقال کر گئے تھے۔

دوسری جانب صدر صالح کی پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار سلطان البرکانی نے ٹیلی وژن پر ایک بیان میں کہا ہے کہ بم حملے میں زخمی ہونے والے پارلیمانی اسپیکر يحيٰى الراعی آئندہ ہفتے وطن لوٹیں گے۔

تاہم برکانی نے یہ نہیں بتایا کہ علی عبداللہ صالح کب یمن لوٹیں گے۔ انہوں نے کہا: ’’اس کا فیصلہ صدر خود اور ان کے ڈاکٹر ہی کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حملے کے حوالے سے کی جانے والی تفتیش کے نتائج آئندہ ہفتے یا رمضان کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔

Jemen Konferenz London

علی محمد مجاور سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ساتھ (فائل فوٹو)

انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ تفتیش کے نتائج صدر صالح کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تجویز دیں گے۔

ملک سے اپنی غیرحاضری کے باوجود علی عبداللہ صالح نے اختیارات نائب صدر عبدالرّب منصور ہادی کو منتقل نہیں کیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ فوج اور سکیورٹی فورسز پر کنٹرول رکھنے والے صالح کے خاندان کے افراد ہی حکومتی امور کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔

صدر علی عبداللہ صالح کو ملک میں رواں برس جنوری سے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جن کے تحت ان کی اقتدار سے بے دخلی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM