1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن کے تنازعے کے حل کے لیے کویت میں مذاکرات شروع

یمن تنازعے کے حل کے لیے فریقین کے درمیان کویت میں مذاکرت دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی مندوب کا کہنا ہے کہ یہ یمن میں قیام امن کے لیے آخری موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسمعیل شیخ نے اتوار کے روز یمن میں برسر پیکار متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں۔

یمن کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کویت میں دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ پندرہ روز قبل یمنی حکومت کے نمائندوں نے مذاکرات کو بائیکاٹ کر دیا تھا۔

شیخ کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات یمن میں قیام امن کا آخری موقع ہیں۔ ’’وقت آ گیا ہے کہ فریقین فیصلہ کن اقدامات کریں اور یمن کے عوام کی جانب اپنی قومی ذمے داریاں پوری کریں۔‘‘

اقوام متحدہ کے مندوب نے کہا کہ مذاکرات کا زور اس بات پر ہو گا کہ یمن کے شیعہ حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کے نمائندے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل کریں۔ یمن میں گیارہ اپریل سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے تاہم فریقین اس کی کثرت سے خلاف روزی کرتے رہتے ہیں۔

شیخ کہتے ہیں، ’’مجھے امید ہے کہ فریقین اس موقع کا فائدہ اٹھائیں گے، جو کہ یمن کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔‘‘

پراکسی وار

حوثی باغی یمن میں اب بھی طاقت ور ہیں حالاں کہ سعودی عرب اور اُس کے اتحادی یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ابتدا گزشتہ برس چھبیس مارچ کو ہوئی تھی۔ اس فضائی کارروائی میں سعودی عرب کو اپنے خلیجی اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکا اور برطانیہ بھی سعودی عرب کی کارروائی کی تائید کر چکے ہیں۔ ریاض کے مطابق حملوں کا مقصد یمن میں ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو روکنا اور ملک پر صدر منصور ہادی کا کنٹرول بحال کرانا ہے۔

یمن کی اس جنگ کو خطے کے بعض دیگر ممالک کی طرح ایران اور سعودی عرب کی علاقائی بالادستی کی جنگ یا ’’پراکسی وار‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

تیل کی قلّت

یمن میں جاری تنازعے کے باعث ملک کے لیے درآمدات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک کے بیس ملین افراد بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔

تیل اور توانائی کی کمی کے باعث ہسپتالوں کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور غذائی قلّت پیدا ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق اس ملک کی تیل کی ضروریات چالیس ہزار لیٹر سے بڑھ کر دس لاکھ لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔

عالمی ادارے نے سعودی عرب کے اس اعلان کو مسترد کر دیا ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ بعض علاقوں میں امدادی کاموں کو ممکن بنانے کے لیے وہاں صلح کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جنگ بندی کی ضرورت ہے۔