1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن: کم سن قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے کے احترام میں یمن میں ایک دوسرے سے برسرپیکار دشمن کم عمر قیدیوں کو رہا کرنے متفق ہو گئے ہیں تاہم دیگر قیدیوں کی رہائی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسماعیل ولد شیخ احمد نے آج اپنے ایک بیان میں کہا، ’’قیدیوں کے بارے میں بنائی گئی کمیٹی نے یہ معاہدہ طے کر لیا ہے کہ مقید بچوں کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے گا۔‘‘

بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے کتنی تعداد میں بچوں کو قید کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب طرفین کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے قبل تمام جنگی قیدیوں کو رہا کر دیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں کویت میں جاری امن مذکرات میں سات ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود فریقین تنازعے کا سبب بننے والی بنیادی وجوہات ختم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی پیش رفت میں ناکام رہے۔

حوثی باغی اور ان کے اتحادی، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے منظور کردہ ان قراردادوں پر عمل کرنے سے انکار کر رہے ہیں جن میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ باغی اپنے بھاری ہتھیار پھینک دیں اور یمنی دارالحکومت سمیت ان تمام علاقوں پر قبضہ ختم کر دیں جو 2014ء سے ان کے تصرف میں ہیں۔

دوسری جانب صدر منصور ہادی کی حکومت بھی باغیوں کے ساتھ مل کر یونٹی حکومت بنانے کی اقوام متحدہ کی تجویز ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہادی حکومت کو اندیشہ ہے کہ حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے سے اس کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

Jemen Kindersoldaten

فریقین کی جانب سے نابالغ بچے لڑائی میں بھی شامل ہیں

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باجود فریقین رمضان کے مہینے میں بھی بات چیت جاری رکھیں گے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران باغیوں کی جانب سے حکومتی فوج کی چھاؤنی پر گولہ باری کے باعث گیارہ شہریوں کی ہلاکت کے باعث امن مذاکرات اثر انداز ہو رہے تھے۔

اقوام متحدہ نے گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیارہ اپریل سے نافذ العمل جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران طرفین میں براہ راست کوئی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ اقوام متحدہ کے مندوب نے دونوں فریقوں سے الگ الگ ملاقاتیں کر کے مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات