1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

یمن کا جوہری مواد، دہشت گردوں کا آسان نشانہ: وکی لیکس

متنازعہ وین سائٹ وکی لیکس کے مطابق یمن کا جوہری مواد دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ وکی لیکس کی طرف سے جاری کیا گیا یہ نیا انکشاف برطانوی اخبار دی گارڈین کی طرف سے سامنے آیا ہے۔

default

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق وکی لیکس نے ایک تازہ کیبل جاری کی ہے، جس کے مطابق یمن حکومت کے ایک اہلکار نے امریکی سفارت کار کے سامنے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ غیرتسلی بخش سکیورٹی کے سبب یمن کے جوہری مواد اور دہشت گردوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

وکی لیکس پر جاری کردہ امریکی سفارتی دستاویزات میں سے ایک برطانوی اخبار گارڈین میں پیر کے روز شائع کی گئی کیبل کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا، جب یمن کے نیشنل ایٹمی انرجی کمیشن (NAEC) کے پاس موجود جوہری مواد کی عملی طور حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک امریکی سفارت کار کی جانب سے یہ کیبل رواں برس جنوری کی نو تاریخ کو بھیجی گئی تھی۔

Jemenische Soldaten nach einem Anschlag

حالیہ عرصے کے دوران یمن میں انتہا پسندی میں اضافہ دیکھا گیا ہے

اس سفارتی دستاویز کے اس وقت کے دوران مطابق یمنی جوہری مواد کی حفاظت کے لیے رکھے گئے اکلوتے سکیورٹی گارڈ کو بھی وہاں سے ہٹا لیا گیا، جبکہ اس مواد کی موجودگی والے مقام پر موجود واحد کلوز سرکٹ کیمرہ بھی چھ ماہ سے خراب ہونے کے بعد سے ناقابل استعمال تھا۔

اس سفارتی دستاویز کے مطابق یمنی حکومتی اہلکار نے امریکی سفارت کار کو بتایا، "یمنی جوہری مواد اور بری نیت رکھنے والوں کے درمیان اب کوئی شے حائل نہیں ہے۔" تاہم گارڈین میں شائع ہونے والی اس وکی لیکس کیبل کے مطابق حکومتی انتباہ کے بعد تابکار مادے کو مناسب سکیورٹی والی جگہ پر منتقل کردیا گیا۔

امریکی سفارت کار سٹیفن سیشے کی طرف سے بھیجے گئے اس سفارتی پیغام کے مطابق اس جوہری مواد میں ہسپتالوں، یونیورسٹیوں اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے والے تابکار مادے شامل تھے۔ یہ سفارتی کیبل گزشتہ برس کرسمس ڈے پر ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو فضا میں اڑائے جانے کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آنے والی صورتحال کے تناظر میں بھیجا گیا تھا۔

اس پیغام کے مطابق یمنی حکومتی اہلکار امریکی حکام کو اس بات پر راضی کرنا چاہتا تھا کہ وہ یمنی حکومت کو جوہری مواد کی بیرون ملک منتقلی پر راضی کریں تاوقتیکہ اس کی سکیورٹی کا مناسب بندوبست نہیں کرلیا جاتا، یا کم از کم اس کے لیے فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM