1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن کا تنازعہ عسکری رخ اختیار کرتا ہوا

عرب ریاست یمن میں ملکی سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالفین کے مابین جھڑپوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ دو روز میں بد امنی کا نشانہ بننے والوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کر چکی ہے۔

default

دارالحکومت صنعا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے بعض اہلکار حکومت مخالف مظاہرین سے مل چکے ہیں، جس کے بعد اُن کے اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس دوران بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔

تازہ اطلاعات ہیں کہ حکومت مخالفین نے فائر بندی کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا بھی کہنا ہے کہ اطراف کے نمائندے فائر بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکومت مخالف سابق فوجی جنرل علی محسن کے حامیوں اور حکومتی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا آغاز اُس وقت ہوا جب حکومتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے نئے سلسلے کا آغاز کیا۔ جنرل محسن نے رواں سال مارچ میں 52 مظاہرین کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔

یمن میں صدر علی عبد اللہ صالح کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری اس تحریک میں اب تشدد کا عنصر نمایاں ہونے لگا ہے۔ آٹھ ماہ کے دوران قریب چار سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں عام شہری اور سکیوٹی اہلکار دونوں شامل ہیں۔

Superteaser NO FLASH Jemen Sanaa Präsident Ali Abdullah Salih Fernsehansprache aus Saudiarabien

ملکی صدر صالح، جن پر جون میں ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، بدستور پڑوسی ملک سعودی عرب میں زیر علاج ہیں

اس سلسلے میں اتوار کو 26 اور پیر کو 28 لوگ ہلاک ہوئے۔ کئی حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر یہ معاملہ ایک عسکری تنازعے کی صورت اختیار  کر جاتا ہے تو پھر اس کا سیاسی حل نکالنا مزید دشوار ہو جائے گا۔

دارالحکومت صنعا میں سفارتی حلقے انتقال اقتدار کو ممکن بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ثالث جمال بن عمر اور خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبد الطیف الزیانی صنعا پہنچ کر فریقین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ الزیانی کی کوشش ہے کہ انتقال اقتدار سے متعلق خلیجی تعاون کونسل کے منصوبے پر دستخطوں کو ممکن بنایا جا سکے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں صدر صالح اور شاہ عبد اللہ کے درمیان پیر کو ایک ملاقات ہوئی۔ سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ میں محض اتنا کہا گیا کہ صدر صالح نے مہمان نوازی پر شاہ عبد اللہ کا شکریہ ادا کیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM