1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یمن میں ہر دوسرا بچہ محنت مزدوری پر مجبور

دو سال قبل اپنے والد کے انتقال کے بعد راسیل اور انور نامی دو کم عمر یمنی بھائی اس لئے اپنا آبائی گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کہ موٹر گاڑیوں کی مرمت کی ایک ورکشاپ میں کام کر کے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے روٹی کما سکیں۔

default

آج یہ دونوں نابالغ بچے عرب ریاست یمن کے ان لاکھوں بچوں میں شمار ہوتے ہیں، جو غربت کے شکار اس ملک میں روزگار کی منڈی میں اس لئے اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال سکیں۔ گیارہ سالہ راسیل الخامیری اور اس کا بہت خاموش رہنے والا آٹھ سالہ بھائی انور ملکی دارالحکومت صنعاء کی ایک ایسی آٹو ورکشاپ میں کام کرتے ہیں، جو ملکی دارالحکومت سے شمال کی طرف واقع ان کی دیہی رہائش گاہ سے تین سو کلومیٹر دور ہے۔

الاخمور نامی دیہی قصبے کا رہنے والا راسیل اب تک کافی کام سیکھ چکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ صبح شام کام کرتا ہے، صبح نو بجے سے لے کر اگلی صبح سحری کے وقت چار بجے تک۔ راسیل جب اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے ساتھ قدرے مہارت سے کسی گاڑی کی مرمت کرتا ہے، تو انور بڑی معصومیت اور اپنے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بھائی کو اس طرح دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وہ خود بھی جلد از جلد اس کام کا ماہر ہو جانے سے متعلق اپنی خواہش چھپا نہیں سکتا۔

Kinderarbeit in Ägypten

ایک بچہ مشینوں کے درمیان

سال رواں کے دوران امریکہ میں قائم CHF انٹرنیشنل نامی ایک امدادی گروپ کی طرف سے کرائے گئے ایک مطالعے میں یہ حقائق سامنے آئے کہ اس وقت یمن میں کُل گیارہ ملین بچوں میں سے پانچ ملین روزگار کی ملکی منڈی میں کوئی نہ کوئی کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے دو تہائی یا قریب تین ملین بچے کسی بھی طرح کی کوئی تعلیم حاصل نہیں کرتے جبکہ باقی ماندہ دو ملین بچے محنت مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کرتے ہیں۔

اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ یمن میں چالیس فیصد بچے صرف سات اور تیرہ برس کے درمیان کی عمر میں روزگار کی ملکی منڈی میں اپنے لئے جگہ بنانے کی کوششیں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے دس فیصد بچے اس وقت عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، جب ان کی انفرادی عمر ابھی صرف نو برس ہوتی ہے۔ بیس فیصد بچے بارہ سال کی عمر میں محنت مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ قریب چالیس فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں، جن کی مختلف طرح کے کام کاج شروع کرتے وقت عمر صرف تیرہ برس ہوتی ہے۔

امریکی امدادی تنظیم CHF کی اس تازہ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق یمن میں محنت مزدوری کے ذریعے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے والے ان بچوں میں سے اسی فیصد ایسے کام کرنے پر مجبور ہیں، جو ان کے لئے انتہائی محنت طلب اور ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ساٹھ فیصد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لئے خطرناک قسم کے اوزاروں اور پرزوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے تیس فیصد محنت مزدوری کے دوران کبھی نہ کبھی زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

یہی نہیں ان بچوں میں سے بیس فیصد کا جسمانی اور جذباتی طور پر استحصال بھی کیا جاتا ہے اور دس فیصد تو باقاعدہ طور پر جنسی زیادتیوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ کئی یمنی والدین یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو سمگل کر کے کسی نہ کسی طرح ہمسایہ ملک سعودی عرب پہنچا دیا جائے، جہاں ایسے نابالغ مزدور ماہانہ بنیادوں پر فی کس پندرہ سو ریال یا قریب چار سو امریکی ڈالر کے برابر تک رقم کما لیتے ہیں۔

Welttag gegen Kinderarbeit - Kinderarbeit in der Türkei Flash-Galerie

ان بچوں کو شدید جسمانی محنت والے کاموں سے گزرنا پڑتا ہے

یمن میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم سیاج کا کہنا ہے کہ شمال مغربی یمن کے حجہ اور الحدائدہ نامہ صوبوں میں تو سینکڑوں کی تعداد میں کم عمر بچے ہمسایہ ملکوں میں منشیات کی سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ سیاج نامی تنظیم کے سربراہ احمد القریشی کے بقول صرف سعودی عرب میں منشیات سمگل کرنے والے یمنی بچوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے اور معاوضے میں ان بچوں کو بہت معمولی لیکن مالی ادائیگیاں بھی کی جاتی ہیں۔

صنعاء میں ملکی حکومت اس مسئلے سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ یمن میں نابالغ بچوں سے کرائی جانے والی محنت مزدوری کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ سماجی امور کی یمنی وزارت کے عوامی فلاح و بہبود کے شعبے کے ڈائریکٹر عادل الشارابی کہتے ہیں کہ یمن میں بچوں سے کرائی جانے والی مشقت کی وجہ ملک میں غربت ہے، جس میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

الشارابی کے بقول اس تکلیف دہ مسئلے کا حل یہ ہے کہ ملکی معیشت کی حالت بہتر بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے کوششیں جاری ہیں تاہم حکومت کو کئی طرح کی مالی اور معاشی رکاوٹوں کا سامنا بھی ہے۔ الشارابی کے مطابق ان کی وزارت نے اسی سال جون میں قومی لیبر مارکیٹ سے متعلق جو سروے کرایا، اس کے نتیجے میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ملک میں صرف زرعی شعبے میں محنت مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد ایک لاکھ بانوے ہزار سے زائد بنتی ہے۔

ان قریب دو لاکھ بچوں میں سے نصف مختلف طرح کی جلدی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں اور سانس اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں زراعت کبھی بہت محفوظ پیشہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ بہت پر خطر ہو چکا ہے، خاص طور پر نابالغ کارکنوں کے لئے۔

صنعاء حکومت کے مطابق وہ بچوں سے لی جانے والی محنت کے خلاف اقدامات کر تو رہی ہے، لیکن اسے روزگار، معیشت، داخلی سلامتی اور کئی دیگر شعبوں میں بڑے بڑے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ اس کے برعکس بہت سے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام مسائل اپنی جگہ، حکومت کو نئی نسل کو معاشی، جسمانی اور سماجی استحصال سے بچانے کے لئے فوری اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے چاہیئں۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس