1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں کیا ہو رہا ہے، کیا امن مذاکرات کامیاب ہوں گے؟

گزشتہ ایک برس سے جاری مسلح تنازعہ یمن کے تقریباﹰ سبھی حصوں تک پھیل چکا ہے۔ اس کے بائیس میں سے نصف صوبے قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں اور ان صوبوں کی زیادہ تر آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس مئی میں شروع ہونے والی جنگ سے پہلے ہی انسانی بحران نے جنم لینا شروع کر دیا تھا لیکن اب وہاں تمام متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی بین الاقوامی امدادی اداروں کے بس کی بات بھی نہیں رہی۔

اقوام متحدہ نے بدھ کے روز اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن تنازعے کے فریقین دس اپریل کی رات سے عارضی فائربندی پر متفق ہو گئے ہیں اور اس کے ایک ہفتے بعد کویت میں فریقین کے مابین امن مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

یمن میں کیا ہو رہا ہے؟

سن دو ہزار گیارہ میں صدر علی عبداللہ صالح کو احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے تینتیس برس بعد بے دخل کر دیا گیا تھا۔ طویل عرصے سے جاری قومی مذاکرات جنوری دو ہزار چودہ میں ناکامی سے دوچار ہو گئے۔ یمن کے شمال میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے تھے۔ دو ہزار چودہ میں ان باغیوں نے ملک کےجنوب کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی اور ملک کا طاقت ور گروپ بن کر ابھرے تھے۔ جنوری دو ہزار پندرہ میں انہوں نے دارالحکومت پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور حکومت کی طرف سے تجویز کردہ نئے آئین کے مسودے کو بھی مسترد کر دیا۔

Jemen Sanaa Ruinen nach Bombenangriffen Kind

مارچ دو ہزار پندرہ کے بعد سے تقریباﹰ اٹھارہ لاکھ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں کیونکہ گیارہ سو ستر اسکول بمباری یا جنگجوؤں کی قبضے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہو چکے ہیں

حوثی باغیوں نے دارالحکومت پہنچتے ہی اپنے سابق دشمن علی عبداللہ صالح سے دوستی کا ہاتھ ملا لیا اور دارالحکومت سمیت یمن کے مرکزی شہروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا۔ مارچ دو ہزار پندرہ میں صدر عبد ربه منصور ہادی سعودی عرب مفرور ہو گئے اور اسی مہینے سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کر دیں تاکہ حوثی باغی اور صالح کی وفادار فورسز کو پورے یمن پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔

اب یمن کے جنوب میں افراتفری مزید پھیل گئی ہے۔ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والی فورسز، جنہیں بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہے، یمن کے جنوبی شہر عدن تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ حوثی اور سعودی حملوں کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوب میں دوبارہ یمن سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک سر اٹھا رہی ہے۔ جنوب کے علیحدگی پسند جنوبی سوشلسٹ ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر صالح نے ہی انیس سو نوے میں جنوبی یمن کو شمالی یمن سے ملایا تھا۔

یمن کا اتحاد شروع ہی سے مشکل کا شکار رہا ہے۔ انیس سو چورانوے میں یمن میں خونریز خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور شمالی یمن کی فورسز کی جیت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب کے لوگ ابھی تک شمالی یمن والوں کو قابض سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب یمن القاعدہ اور داعش کے عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بھی متاثر ہوا ہے اور امریکا ابھی تک وہاں ان کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

جنگ کا نتیجہ ؟

اس لڑائی کے نتیجے میں یمن کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے، سینکڑوں ہسپتال اور اسکول بند پڑے ہیں۔ اس ملک کو اپنی زیادہ تر غذائی اشیاء درآمد کرنا پڑتی ہیں اور اس کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ چھبیس ملین کی آبادی میں سے کم از کم تیرہ ملین افراد کو غذائی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر ملک کی اسّی فیصد آبادی کو کسی نہ کسی طرح کی امداد چاہیے۔

Jemen Luftangriffe Zerstörung

اس لڑائی کے نتیجے میں یمن کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے

صرف گزشتہ ایک برس میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباﹰ تیس ہزار بنتی ہے۔ ہر دس میں سے ایک یمنی بے گھر ہو چکا ہے یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام پذیر ہے۔

نقصان پہنچنے کی وجہ سے ملک کے تقریباﹰ چھ سو ہسپتال بند پڑے ہیں جبکہ ادویات اور عملے میں کمی کی وجہ سے دیگر میں محدود کام ہو رہا ہے۔ مارچ دو ہزار پندرہ کے بعد سے تقریباﹰ اٹھارہ لاکھ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں کیونکہ گیارہ سو ستر اسکول بمباری یا جنگجوؤں کی قبضے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہو چکے ہیں۔