1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں منتقلیٴ اقتدار کے مذاکرات میں تعطل

یمن میں طویل عرصے سے منصب صدارت پر براجمان علی عبداللہ صالح کا اقتدار بظاہر غروب ہونے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ اقتدار کی منتقلی کی بات چیت میں تعطل کی اطلاعات ہیں۔

default

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی بات چیت میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کے بعض ارکان کو گمان ہے کہ صدر صالح بات چیت کے عمل کے ذریعے احتجاج کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ افراد اس یقین کا اظہار کر رہے ہیں کہ ممکنہ ڈیل جلد مکمل ہو سکتی ہے۔

پیر کو یمن کی اسلحے کی فیکٹری میں بم دھماکے میں کم از کم ایک سو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس بم دھماکے کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

یمن کے صدر نے بات چیت کے عمل کے دوران اپوزیشن کو مزید رعایتیں دینے سے انکار بھی کردیا ہے۔ عبداللہ صالح کی اقتدار سے رخصتی کی ممکنہ ڈیل میں بعض ذرائع کے مطابق امریکی حکام بھی شامل ہے۔ یمن طویل عرصے سے امریکی حلیف ہے۔ مذاکراتی عمل میں پیدا شدہ تعطل کی اپوزیشن کی جانب سے تصدیق کر دی گئی ہے۔

ایک اور اپوزیشن کے رہنما نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ صدر صالح اپنے خاندان کے لیے یمن میں رہتے ہوئے مزید رعایتیں چاہتے ہیں اور اسی رہنما کے مطابق اگلے دنوں میں ڈیل یقینی طور پر طے ہو جائے گی۔

ڈیل میں صدر صالح اور ان کے اب تک کے سب سے بڑے مخالف جنرل علی محسن کے استعفوں کا معاملہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جنرل علی محسن نے مظاہرین کی حفاظت کے لیے اپنے زیر کمان رجمنٹ میں سے فوجیوں کو دارالحکومت صنعا میں متعین کردیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر صالح مستعفی ہونے کے بعد قانونی تحفظ کے بھی خواہاں ہیں۔

Jemen Präsident Ali Abdullah Saleh lehnt Rücktritt ab

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح

مذاکراتی عمل میں تعطل کی کچھ اور وجوہات میں صدر صالح کا متبادل بھی اہم ہے۔ موجودہ نائب صدر منصب صدارت پر فائز ہونے کے متمنی نہیں ہیں۔ اس صورت میں کسی اور نام کا انتخاب بھی اہم ہے۔

اس اثنا میں وکی لیکس کی جانب سے جاری ایک مراسلے کے مطابق علی عبداللہ صالح نے گزشتہ سال جنرل علی محسن کو سعودی فوج کی جانب سے ان کے ہیڈکوارٹرز پر بمباری کے ذریعے ہلاک کروانے کی بھی کوشش کی تھی۔ سعوی مشن آخری وقت میں اس وقت ناکام ہو گیا تھا جب جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو معلوم ہوا کہ وہ جنرل علی محسن کے صدر دفتر پر بمباری کرنے والے ہیں۔ یہ مراسلہ سعودی دارالحکومت ریاض سے امریکی سفارت خانے کی جانب سے واشنگٹن روانہ کیا گیا تھا۔ پیغام کے مطابق اس عمل کا انکشاف امریکی سفارتکار کی سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان کے ساتھ ہونے والی خفیہ ملاقات میں کیا گیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس