1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں مظاہرے، پولیس کی فائرنگ

صدر صالح کے خلاف یمن کے شہر تعز میں آج ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے ساتھ ساتھ فائرنگ کا استعمال بھی کیا۔ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آج پیر کے روز ہزاروں مظاہرین نے اپنے ملک میں امریکہ کے حمایت یافتہ اقتدار کی منتقلی کے گلف پلان کو مسترد کرتے ہوئے صدر صالح سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرے میں شریک نوح الوافی کا کہنا تھا کہ پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

یمن میں جاری بد امنی اور عوامی احتجاجی لہر کے خاتمے کے لیے عرب ریاستوں کی چھ ملکی تنظیم خلیجی تعاون کونسل کے منصوبے کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ تحریری معاہدہ طے پا جانے کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر صدر صالح مستعفی ہو جائیں گے۔

اس پلان کے تحت یمنی صدر کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ صدر صالح نے ہفتے کے روز اس منصوبے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ آج تاہم مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر کو کسی بھی طرح کی کوئی رعایت اور مہلت نہیں دی جائے گی۔ عینی شاہدین کے مطابق تعز میں پولیس نے گورنر ہاؤس کو جانے والی سڑکوں پر بڑی بڑی رکاوٹیں اور بکتربند گاڑیاں کھڑی کر رکھی تھیں۔

Jemen / Demonstranten / Saleh

آج پیر کو مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر صالح کے مستعفی ہونے تک نہ تو مذاکرات کیے جائیں گے اور نہ ہی احتجاج کا سلسلہ بند کیا جائے گا

یمن میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ اب منتقلیٴ اقتدار کے عمل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ اقتدار کی منتقلی کی تفصیلات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کی جائیں تاہم آج پیر کو مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر صالح کے مستعفی ہونے تک نہ تو مذاکرات کیے جائیں گے اور نہ ہی احتجاج کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔ تعز میں ہونے والے مظاہرے کے شرکاء نے بحرین کے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحرین کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔

گزشتہ ہفتے کے روز یمن کے نائب وزیر اطلاعات ابو الجنادی نے کہا تھا کہ ملک جلد ہی موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے کسی ایسے حل تک پہنچ جائے گا، جو تمام پارٹیوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔ صدر صالح گزشتہ قریب 33 برسوں سے برسراقتدار چلے آ رہے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM