1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں مظاہرین پر فائرنگ: کئی ہلاک، درجنوں زخمی

عرب جزیرہ نما کے ملک یمن میں صدر کے خلاف جاری مظاہروں میں جمعہ انتہائی خونی دن قرار دیا جاسکتا ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی ریلی پر پولیس فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

default

دارالحکومت صنعاء کی یونیورسٹی کے چوک میں صدرعلی عبداللہ صالح کے خلاف ایک بڑے مظاہرے کے شرکاء کو حکومتی جبر کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ مظاہرین جمعہ کی نماز پڑھ کر مساجد سے نکل کر جمع ہوئے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے حکومتی سکیورٹی فورسز نے پہلے آنسو گیس اور پھر براہ راست فائرنگ کا سہارا لیا۔ مظاہرے کا مقام یمنی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع تھا۔ عوامی احتجاج میں مظاہرین صدر صالح کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ احتجاجی ریلی میں ٹائروں کو بھی جلایا گیا۔

پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعدادکا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق ایک سو سے زائد زخمیوں کے علاوہ تیس افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طبی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم از کم بیس افراد انتہائی نازک حالت میں ہیں اور اس باعث ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔

NO FLASH Jemen Demonstrationen

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس اور پھر براہ راست فائرنگ کا سہارا لیاگیا

کچھ ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کو سر، گردن اور چھاتی پر گولیاں لگیں۔ عینی شاہدین کے مطابق حکومت مخالف ریلی پر پولیس کے ساتھ ساتھ حکمران پیپلز کانگریس پارٹی کے مسلح ورکروں نے حملہ نے بھی کیا تھا۔ فائرنگ سے قبل پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس گولے بھی برسائے۔

یمن کے کاروباری حلقوں نے ملک کے اندر مفلوج اقتصادی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے صدر صالح کو تجویز کیا ہے کہ وہ فوری طور پر منصب صدارت سے علیٰحدہ ہو جائیں۔ ایسا ہی مطالبہ مظاہرین بھی کرتے ہیں۔

یمن پر علی عبداللہ صالح سن 1978ء سے حکمران ہیں۔ انہوں نے مظاہروں کی شدت کم کرنے کے حوالے سے چند روز قبل دستوری اصلاحات کو متعارف کروانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس مناسبت سے وہ اس سال کے ختم ہونے سے قبل ریفرنڈم کروانے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے صدر کے عہدے سے موجودہ مدت کے پوری ہونے پرعلیٰحدہ ہونےکا بھی اشارہ دے رکھا ہے۔ ان کی یہ مدت سن 2013 ء میں پوری ہو گی۔

دوسری جانب حکومت مخالف قوتوں کا خیال ہے کہ صالح کے نئے دستوری اقدامات صرف اقدار بچانے کا ایک بہانہ ہے اور عوامی احتجاج دستوری اصلاحاتی عمل سے آگے نکل چکا ہے۔ یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے آمریت نواز حکومت کے خلاف اکیس فروری سے عوامی تحریک کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت، عاطف بلوچ

DW.COM