1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں مزید چھ افراد ہلاک، تین روز میں 62 ہلاکتیں

یمن میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن آج منگل کے روز بھی جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق منگل کے روز چھ مزید افراد سکیورٹی فورسز کے تشدد کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

یمن میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ ماریب پریس نامی ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ کے مطابق آج منگل کے روز کم از کم تین مظاہرین اس وقت ہلاک ہوئے، جب دارالحکومت میں ایک احتجاجی کیمپ پر راکٹ فائر کیے گئے۔ مجموعی طور پر منگل کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ اس طرح گزشتہ تین دنوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد اب 62 تک پہنچ گئی ہے۔

یمن میں مظاہرین صدر علی عبداللہ صالح کے تینتیس سالہ آمرانہ دور حکومت کا خاتمہ اور ملک میں سیاسی و معاشی اصلاحات کے مطالبے کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان مطالبات کو نہ صرف یہ کہ نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ حکومت مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ صدر صالح زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب چلے گئے تھے۔

NO FLASH Massaker im Jemen September 2011

گزشتہ تین دنوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد اب 62 تک پہنچ گئی ہے

 دوسری جانب برلن حکومت نے یمن میں حکومتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر جاری تشدد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کے ثالث جمال بن عمر اور خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبد الطیف الزیانی صنعاء پہنچ کر فریقین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔

بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یمنی حکومت پر مناسب دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ مبصرین کے مطابق مغربی ممالک بہرحال خاصے فکرمند ہیں کہ یمن، جہاں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا اچھا خاصا اثر و روسوخ ہے، کہیں عدم استحکام کا شکار نہ ہو جائے۔ صدر صالح مغربی ممالک کو القاعدہ کے خطرے سے ڈراتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کا خاتمہ یمن میں القاعدہ کو مضبوط کر دے گا۔ تاہم ان کے مخالفین اور جمہوریت پسند القاعدہ کے خطرے کو صالح حکومت کی جانب سے اقتدار کو طول دینے کا ایک حربہ قرار دیتے ہیں۔ جنوری سے شروع ہونے والے اس بحران کی وجہ سے یمن میں اب تک کم از کم چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

منگل کے روز مظاہرین ’کینٹکی راؤنڈ اباؤٹ‘ پر جمع ہوئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ حکومت کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ منگل کے واقعات کا مرکز یمن کے سابق جنرل محسن کی فورسز اور یمنی افواج کے درمیان شیلنگ کا تبادلہ رہا۔ جنرل محسن مارچ کے مہینے میں فوج میں اپنے حامیوں کے ساتھ صالح کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے جمہوریت پسندوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

یمنی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ایک مرتبہ پھر مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ حکومت نے ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت مخالفین پر عائد کی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

 

DW.COM