1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں فائر بندی کی خاف ورزیاں ایک روز بعد ہی شروع

یمن میں متحارب فریقین کی جانب سے ایک روز تک فائر بندی کی پاس داری کے بعد آج اتوار کے روز اس جنگ زدہ ملک میں ایک مرتبہ پھر میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

 فریقین نے ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق یمنی حکومت کی حامی فورسز نے ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے عمل کا جواب دیا۔

 عرب اتحاد کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ اڑتالیس گھنٹے کے لیے فائر بندی کے معاہدے کی باغیوں کی طرف سے ایک سو پچاسی مرتبہ خلاف ورزی کی گئی۔

 دوسری جانب باغیوں نے حکومتی فورسز پر اس کے زیر قبضہ علاقوں میں بم باری کرنے کا لزام لگایا ہے۔

 حوثیوں نے سن دو ہزار چودہ میں صنعاء پر قبضہ کیا تھا۔ گزشتہ برس مارچ سے سعودی عرب اور امریکی حمایت یافتہ اتحاد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

 پراکسی وار

حوثی باغی یمن میں اب بھی طاقت ور ہیں حالاں کہ سعودی عرب اور اُس کے اتحادی یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ابتدا گزشتہ برس چھبیس مارچ کو ہوئی تھی۔ اس فضائی کارروائی میں سعودی عرب کو اپنے خلیجی اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

امریکا اور برطانیہ بھی سعودی عرب کی کارروائی کی تائید کر چکے ہیں۔ ریاض کے مطابق ان حملوں کا مقصد یمن میں ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو روکنا اور ملک پر صدر منصور ہادی کا کنٹرول بحال کرانا ہے۔

یمن کی اس جنگ کو خطے کے بعض دیگر ممالک کی طرح ایران اور سعودی عرب کی علاقائی بالادستی کی جنگ یا ’پراکسی وار‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

DW.COM