1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں فائر بندی ختم، سعودی عسکری اتحاد

یمن میں سعودی عسکری اتحاد نے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جاری جنگی کارروائی کے دوران فائر بندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعلان اس اتحاد نے یکطرفہ طور پر کیا ہے۔

آج ہفتے کے روز سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فائربندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ فائربندی کے اعلان کے بعد سے اب تک اس کمزور فائربندی کی خلاف ورزی وقفے وقفے سے کی جاتی رہی ہے۔ اتحاد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عالمی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے سے اس فائربندی کا باقاعدہ خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ یہ فائربندی کا آغاز گزشتہ برس پندرہ دسمبر کے روز شروع کی گئی تھی۔

سعودی عسکری اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے اس فائربندی کے دوران حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے زیرقبضہ علاقوں سے سعودی شہروں پر بیلاسٹک میزائل داغے، سرحدی چوکیوں پر حملے کیے اور امدادی کارروائیوں میں رخنہ ڈالا۔ اِس بیان میں مزید کہا گیا کہ باغیوں نے اُن افراد کے قتل سے بھی گریز نہیں کیا، جو اُن کی قید میں تھے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ باغیوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ فائربندی کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں رکھتے۔ یہ امر اہم ہے کہ حالیہ ایام کے دوران حوثی شیعہ باغیوں نے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر حملوں میں شدت پیدا کر رکھی تھی۔

Jemen Kämpfe in Taiz

ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ یمن میں حوثی شیعہ ملیشیا کو ایران کی حمایت حاصل ہے

سعودی عرب کی جانب سے فائربندی کے خاتمے کا اعلان اُس وقت کیا گیا، جب آج ہفتے کے روز سعودی فوج اپنے دفاعی نظام کی بدولت داغے گئے ایک بیلاسٹک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا تھا۔ سعودی عرب نے پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں نصب کر رکھی ہیں۔ یمن کے متحارب گروپوں نے جنگ بندی پر اتفاق اُس وقت کیا تھا جب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی صدر منصوری ہادی کے نمائندوں اور حوثی باغیوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امن مذاکرات شروع کیے تھے۔ یہ مذاکرات بے نتیجہ ضرور رہے لیکن نیا دور رواں مہینے شروع کیے جانے کی توقع ہے۔

جزیرہ نما عرب کے اقتصادی و معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے ملک یمن میں سعودی عسکری اتحاد کو حوثی شیعہ ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوجی دستوں کا سامنا ہے۔ یہ عام تاثر ہے کہ حوثی شیعہ ملیشیا کو ایران کی حمایت و تائید حاصل ہے۔ حوثی شیعہ ملیشیا کی جانب سے پیش قدمی کے بعد ملکی دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ اور خراب ہو گئی۔ صدر منصور ہادی اور اُن کی کابینہ فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ کی خاطر پہنچ گئے تھے۔ اب بندرگاہی شہر عدن پر قبضے کے بعد ہادی اور اُن کی کابینہ اپنے ملک واپس آئی ہے۔