1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں صالح کے حامی اور مخالفین کی بڑی ریلیاں

یمن میں بھی سیاسی افراتفری کا خاتمہ ممکن نہیں ہو رہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ صدر علی عبداللہ صالح کا منتقلیٴ اقتدار کے حوالے سے کسی نکتے پر متفق نہ ہونا ہے۔ اس دوران حکومت مخالف ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

default

خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے ایک بار پھر یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جمعہ کو خلیجی کونسل کی رائے پر یمنی صدر کا رویہ حسب معمول سرد مہری سے عبارت رہا۔ خلیجی کونسل نے علی عبداللہ صالح کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگلے تیس دنوں میں حکومت سے علیٰحدہ ہو جائیں تو یہ ان کے عوام اور عرب دینا کے لیے مناسب ہو گا۔ اس تجویز میں اگلے الیکشن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یمن کے دارالحکومت صنعا کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے ان کے مستعفی ہونے کے مطالبے کا سلسلہ جاری رکھا۔ تماز جمعہ کے بعد صالح مخالفین نے واشگاف نعروں میں ان سے مسند صدارت چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت مخالفین نے اس جمعہ کو صالح کے لیے آخری موقع یا لاسٹ چانس فرائیڈے (Last Chance Friday) قرار دیا ہے۔ یمن کے جنوبی شہروں میں بھی صالح مخالف جلوسوں کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان مظاہروں میں بات چیت کے عمل کو بھی رد کرنے کے نعرے بلند کیے گئے۔

جمعہ کو صدر صالح کے حامیوں نے بھی ایک ریلی کا انتظام کیا تھا۔ دونوں ریلیاں دارالحکومت صنعا کی مختلف اہم سڑکوں پر نکالی گئیں۔ پولیس کی بھاری نفری بھی شہر کی سڑکوں پر موجود تھی تا کہ فریقین کے درمیان نعرہ بازی کرتے ہوئے کسی جھگڑے کی صورت نہ پیدا ہو سکے۔

Flash-Galerie Unruhen Syrien Jemen

یمن میں صالح مخالف مظاہروں میں شریک خواتین

صدر صالح نے اپنے حامیوں سے خطاب بھی کیا اور اس میں بھی انہوں نے حسب معمول دستور کی حکمرانی کی بات کی۔ خلیجی تعاون کونسل کی تجویز کے حوالے سے صالح کا کہنا تھا کہ وہ گلف کونسل کی تجویز کا احترام کرتے ہیں لیکن وہ اسی بات کو تسلیم کریں گے جو دستور کے دائرے میں ہوگی۔ مبصرین کے مطابق یمن پر بتیس سالوں سے ایک آمر کے طور پر حکمران علی عبداللہ صالح کا بار بار دستور اور قانون کا حوالہ دینا مضحکہ خیز لگتا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے صدر صالح کو مشور دیا گیا ہے کہ وہ اگلے تیس دنوں کے اندر پارلیمنٹ کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کردیں۔ منصب صدارت نائب صدر عبدالرب منصور ہادی کو سونپ دیں۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد دو ماہ کے اندرصدارتی الیکشن کا انتظام عبوری حکومت کرے گی۔ یمن میں جمہوریت پسندوں کے گروپ کامن فورم اتحاد کا کہنا ہے کہ صالح کی موجودگی میں قومی حکومت کی بات ایک مذاق ہے۔

اس دوران حکومت نے تصدیق کی ہے کہ مارب کے علاقے میں اس کے تیرہ فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ فوجیوں کو مارنے کا شبہ قبائلیوں اور مشتبہ انتہاپسندوں پر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ابیان صوبے میں بھی ایک فوجی کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس