1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں شیعہ سنی نفرت کی خلیج وسیع ہوتی ہوئی

محسن صالح المرادی نہ صرف یمنی دارالحکومت صنعا سے حوثی شیعہ باغیوں کی پسپائی چاہتا ہے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انہیں چن چن کر ہلاک کر دیا جائے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا سے 130 کلومیٹر دور واقع امارب نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے المرادی کا کہنا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی پسپائی ہی نہیں صفایا بھی چاہتے ہیں۔ صنعا کے شمال میں واقع المارب سے تعلق رکھنے والے المرادی نے کہا، ’’میں ماران تک ان کا پیچھا کروں گا۔‘‘

اس باریک موچھوں، سر پر سرخ رنگ کا کپڑا رکھے اور سینے کے ساتھ گولیوں سے بھری جیبوں والا بیلٹ چپکائے المرادی کا کہنا ہے،’’میں انہیں اپنے پیروں کے نیچے کچلنا چاہتا ہوں۔‘‘

یمن کے اس پیچیدہ تنازعے میں سعودی قیادت میں اتحادی فورسز صنعا پر قابض ایران نواز شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ جوؤں کی بھرپور مدد کر رہی ہیں اور اسی تعاون کی وجہ سے صدر منصور ہادی کی حامی فورسز کو متعدد محاذوں پر کامیابی بھی ملی ہے۔ حوثیوں کے خلاف لڑنے والے گروہ متعدد ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ سب کے سب صدر منصور ہادی کے حامی ہی ہیں۔ تاہم ان تمام جنگ جوؤں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے شیعہ فرقے کے خلاف نفرت۔ یہ ایک نئی اور خطرناک خلیج ہے، جو یمن میں صدیوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے شیعہ اور سنی فرقوں کے افراد کے درمیان گہری ہوتی جا رہی ہے اور اس کا انجام کار نہایت خوف ناک ہو سکتا ہے۔

Jemen Houthi-Rebellen

حوثی باغی یمن کے ایک وسیع علاقے پر قابض ہیں

شمالی یمن پر زیدی شیعہ قریب ایک ہزار برس تک حاکم رہے اور ان کی حکومت کا خاتمہ سن 1962ء میں ہونے والی بغاوت کے ذریعے ہوا۔ حوثیوں نے قریب دو دہائیاں زیدی شیعہ فرقے کی طرف سے لڑائی کی۔

گزشتہ برس سے یمن میں حوثی خود ایک مضبوط طاقت بن کر ابھرے ہیں۔ سابق صدر عبداللہ صالح سے اتحاد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صالح کا تعلق بھی ایک زیدی خاندان سے ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ نیا فرقہ ورانہ رجحان یمن کی برداشت کی حامل معاشرت میں نئی دراڑوں کی صورت میں ابھر رہا ہے۔

حوثیوں کے خلاف لڑنے والوں میں سے کچھ کا تعلق بحراحمر کے ساحلی علاقوں سے ہے، کچھ یمن کے شمالی پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ وسطیٰ یمن کے باسی ہیں، تاہم ایک چیز نے اس مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو جوڑ رکھا ہے اور وہ ہے عبداللہ صالح اور حوثیوں سے نفرت اور بلاشبہ نفرت کی ایک وجہ یمن کے بڑے علاقے پر قابض حوثیوں کا ایران سے تعلق بھی ہے۔

دوسری جانب حوثی اپنے تمام سنی مخالفین کا تعلق دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق یہ خلیج جتنی زیادہ گہری ہوتی چلی جائے گی اسی قدر فرقہ ورانہ تشدد بڑھے گا، جس کا آغاز اب متعدد مقامات پر ہونے والے حملوں میں دکھائی بھی دینے لگا ہے اور اب یہ لڑائی سیاسی اختلاف سے نکل کر مذہبی تفریق کی جانب بڑھتی جا رہی ہے۔