1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں دس سالہ قید کے بعد سات پاکستانی ماہی گیروں کی واپسی

سات پاکستانی ماہی گیر یمن میں دس سال سے زائد عرصے تک جیل کاٹنے کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق ان ماہی گیروں کو یمنی حکام نے ایک عشرے سے بھی زائد عرصہ قبل گرفتار کر لیا تھا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ہفتہ گیارہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ترجمان نجم عباسی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان مقامی ماہی گیروں کا تعلق دو وفاقی صوبوں بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں سے ہے۔

پاکستان نے 220 بھارتی ماہی گیر رہا کر دیے

رہا ہونے والے بھارتی ماہی گیروں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو

Symbolbild Afghanistan - Rotes Kreuz (picture-alliance/Ton Koene)

ان پاکستانی شہریوں کی رہائی ریڈ کراس اور ملکی وزارت خارجہ کی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی

ان ماہی گیروں کو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل عرب ریاست یمن کے حکام نے اس وقت اپنی حراست میں لے لیا تھا، جب وہ غلطی سے پاکستانی سمندری حدود سے نکل کر بین الاقوامی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یمن میں حکام نے ان پاکستانی شہریوں کو ان کی گرفتاری کے بعد سے ملکی دارالحکومت صنعاء کی ایک جیل میں رکھا ہوا تھا اور ان کی رہائی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور پاکستانی وزارت خارجہ کی مشترکہ لیکن بہت طویل کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

یہ ساتوں پاکستانی شہری کل جمعہ دس فروری کو رات گئے بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں ریڈ کراس کی طرف سے ان ماہی گیروں کے اہل خانہ کو واپس لوٹنے والے ان پاکستانیوں کے استقبال کے لیے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر لایا گیا تھا۔

بعد ازاں یہ پاکستانی ماہی گیر اپنے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپس اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے۔

DW.COM