1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں حکومت مخالف مظاہرے، چار مظاہرین ہلاک

یمن میں حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم چار افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ صدرعلی عبداللہ صالح کے بتیس سالہ اقتدار کے خاتمے کے لیے مظاہرین آج مسلسل آٹھویں روز بھی سراپا احتجاج ہیں۔

default

دارالحکومت صنعاء سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو حکومت مخالف اور حکومت نواز مظاہرین کے مابین تصادم ہوا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت کے حامی قریب آٹھ سو مسلح مظاہرین نے حکومت مخالف مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں حکومت مخالف مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

اسی طرح یمن کے ایک اور اہم شہرعدن میں بھی مظاہرے ہوئے، جہاں اطلاعات کے مطابق ایک شخص فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔ یمن کے عوام ملک میں بدعنوانی، بے روزگاری اور پست معیار زندگی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صدرعلی عبداللہ صالح اپنے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔

اگرچہ یمن میں وقفے وقفے سے مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے ہی شروع ہو گیا تھا تاہم اب یہ احتجاج مسلسل آٹھویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز دارالحکومت صنعاء میں مظاہرین کی ریکارڈ تعداد جمع ہوئی۔ تیونس اور مصر کے عوامی انقلابات کے بعد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح یمن میں بھی حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

Superteaser NO FLASH Jemen Proteste in Aden

نئے مظاہروں میں سب سے زیادہ تعداد طالب علموں کی ہے

صنعاء سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ روز سکیورٹی حکام نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور پچاس افراد کو گرفتار بھی کیا۔ صنعاء اور عدن کے علاوہ دیگر کئی اہم شہروں میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صدرصالح عوام سے کہہ چکے ہیں کہ وہ نہ تو سن 2013ء کےصدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور نہ ہی اقتدار اپنے بیٹے کو منتقل کریں گے۔ صدر صالح کی طرف سے اس اعلان کے بعد اگرچہ اپوزیشن مذاکرات کا حصہ بننے پر تیار ہو گئی ہے تاہم نوجوان طبقہ صدر سے فوری مستعفی ہونے کے مطالبے پر برقرار ہے۔ نئے مظاہروں میں سب سے زیادہ تعداد طالب علموں کی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM