1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں حوثی باغیوں کے زیر تسلط علاقوں پر سعودی فضائی حملے

یمن میں باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں سعودی عرب کے زیر قیادت فوجی اتحاد نے آج سلسلہ وار فضائی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے ذریعے ہونے والے یمن امن مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

Jemen - Friedensgespräche in Kuwait

گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ذریعے ہونے والے یمن امن مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے

کم از کم آٹھ فضائی حملے حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شمالی صوبے صعدہ میں کیے گئے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہیں۔ اتحادی طیاروں نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب شمال مغربی یمنی صوبے حاجہ میں بھی حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کی تنصیبات پر بمباری کی ہے۔ حاجہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں کی بمباری نے باغیوں کےفوجی ساز وسامان کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب حوثی نواز نشریاتی ادارے المسیراح نے خبر دی ہے کہ نجران اور جیزان کے سعودی سرحدی قصبوں میں آج ہونے والے باغیوں کے حملوں میں سعودی اہلکاروں کی نامعلوم تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

گزشتہ روز یمن کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسماعیل اولد شیخ احمد نے رواں سال کویت میں شروع ہونے والے یمن امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ شیخ احمد نے اعلان کیا تھا کہ امن مذاکرات کا دور ایک ماہ کے عرصے میں دوبارہ شروع کیا جائے گا تاہم جگہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب یمنی حکومت کی طرف سے مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مذاکرات میں تعطل کے لیے شیعہ باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یمن تنازعے میں مارچ سن 2015 سے شدت آئی تھی جب ایران کے اتحادی باغیوں نے عدن کے جنوبی شہر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔

جس کے بعد ہی سعودی عرب اور اس کے سنی اتحادیوں نے یمن میں اس گروپ کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔ سعودی عرب کو خطرہ ہے کہ حوثی باغی اس کے روایتی حریف شیعہ اکثریتی ملک ایران کو جزیرہ نما عرب میں اپنے قدم جمانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

DW.COM