یمن میں جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری، امن مذاکرات ملتوی | حالات حاضرہ | DW | 18.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری، امن مذاکرات ملتوی

یمن میں جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات کا آغاز آج سے ہونا تھا، جو نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب فائربندی کے معاہدے کے باوجود ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی اور سعودی عرب کی اتحادی فورسز لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حوثی باغیوں اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفود نے سعودی عرب کے نمائندوں کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پیر کے روز کویت پہنچنا تھا لیکن انہوں نے کویت جانے سے انکار کر دیا ہے۔ شیعہ حوثی باغیوں کے اتحادی اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اگر فائربندی کا احترام نہیں کیا جاتا تو کویت جانے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘

قبل ازیں اقوام متحدہ نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا اور فریقین گیارہ اپریل سے فائر بندی کرنے پر متفق ہو گئے تھے۔ گزشتہ برس حوثی باغیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر نے جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔ بعدازاں گزشتہ برس مارچ میں ریاض حکومت نے اپنے چند خلیجی اتحادیوں کے ہمراہ یمن میں فضائی بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

Jemen Kämpfer auf einem Toyota Pick up Patrouille

اس وقت سعودی عرب کی اتحادی فورسز اور حوثی باغیوں کے مابین متعدد محاذوں پر لڑائی جاری ہے

گزشتہ برس اقوام متحدہ نے جون اور دسمبر میں ہونے والے امن مذاکرات میں بھی ثالث کا کردار ادا کیا تھا لیکن جنگ کا خاتمہ پھر بھی نہ ہو سکا تھا جبکہ گزشتہ ایک برس میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے نصف سے زائد تعداد عام شہریوں کی ہے۔

اس وقت سعودی عرب کی اتحادی فورسز اور حوثی باغیوں کے مابین متعدد محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔ سعودی عرب خاص طور پر یمن کے جنوب مغربی شہر تعز اور دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں فضائی بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسماعیل ولد شیخ احمد نے صنعاء میں موجود فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے کویت روانہ ہو جائیں، ’’اگلے چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انصار اللہ (حوثی باغی) اور جنرل پیپلز کانگریس اس موقع کو ضائع نہیں کریں گے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہی مزید جانوں کے ضیاع سے اجتناب کے ساتھ ساتھ تشدد کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

دوسری جانب سعودی عرب کے حمایت یافتہ وفد میں شامل ایک عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’صالح اور حوثی باغیوں کے نمائندے تاخیری حربے تلاش کر رہے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ وہ منگل کے روز پہنچ جائیں گے۔‘‘