1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں امریکی بحری جہاز پر حملہ: ملزم پاکستان میں مارا گیا

پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے مطابق ایک حالیہ ڈرون حملے میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کا ایک ایسا اہم رکن بھی مارا گیا، جو یمن میں ایک امریکی جنگی بحری جہاز پر حملے میں مطلوب تھا۔

default

یمن میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی طرف سے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر یہ حملہ سن 2000 میں کیا گیا تھا۔ پاکستان کے خفیہ اداروں کے دو اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ القاعدہ کے اس رکن کی ہلاکت آٹھ ستمبر کو شمالی وزیرستان ایجنسی میں کئے گئے ایک فضائی حملے میں ہوئی۔

افغان سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی علاقے میں اس مبینہ امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے اس اہم رکن کے علاوہ چار دیگر مشتبہ عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان خفیہ اہلکاروں نے پیر کو رات گئے بتایا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والا اہم ترین عسکریت پسند فہد محمد احمد ال قوسونامی ایک یمنی شہری تھا۔

Raketen Pakistan

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج جاری ہے

اس مطلوب شدت پسند کی گرفتاری میں مدد دینے پر امریکہ نے پانچ ملین ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق القاعدہ کا یہ رکن 12 اکتوبر سن 2000 میں امریکی جنگی بحری جہازUSS Cole پر حملے میں ملوث تھا۔ عدن کی بندرگاہ میں اس جہاز پر حملے میں امریکی بحریہ کے17 ارکان مارے گئےتھے۔

بتایا گیا ہے کہ فہد محمداحمد اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ شمالی وزیرستان میں دتہ خیل کے علاقے میں ایک کار میں سفر کر رہا تھا کہ اس کی کار کو ایک ڈرون طیارے سے فائر کئے گئے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ال قوسو کی عمر تقریباﹰ 46 برس بتائی گئی ہے اور وہ اپریل 2003 میں یمن کی ایک جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ال قوسو کا نام امریکی تحقیقاتی ادارے FBI کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔

ستمبر کے اوائل میں اسی حملے میں القاعدہ کا جو دوسرا مبینہ رکن مارا گیا، پاکستانی خفیہ اہلکاروں نے اس کا نام یونس موریطانی بتایا ہے۔ وہ بھی کئی ملکوں میں امریکی شہریوں کے قتل اور امریکی مفادات پر حملوں کے الزام میں واشنگٹن میں قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس