1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں القاعدہ کے اثر ورسوخ میں اضافہ

یمن میں مسلمان انتہا پسندوں نے ملکی فوج پر حملہ کر کے کم ازکم تین فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اس عرب ملک میں القاعدہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

یمن کے جنوبی شہر زنجار میں واقع عدن ملٹری ہسپتال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ منگل کو ایک پر تشدد کارروائی کے بعد وہاں تین فوجیوں کی لاشیں لائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق مسلمان انتہا پسندوں کے اس حملے میں کم ازکم پانچ فوجی زخمی بھی ہوئے۔

یمن کے فوجی حکام نے بھی زنجار میں رونما ہونے والے اس پرتشدد واقعے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ یمن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی فوج  کی کارروائی کے باوجود زنجار کے کئی علاقوں میں اس وقت بھی القاعدہ کے حامی جنگجو کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔

NO-FLASH Frankreich USA Afghanistan General David Petraeus in Paris

امریکی خفیہ ادارے CIA کے نئے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس

دوسری طرف امریکی خفیہ ادارے CIA کے نئے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں القاعدہ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے تاہم یمن وہ جگہ ہے، جہاں یہ دہشت گرد گروہ عالمی امن کے لیے ایک خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔

ناقدین کے خیال میں یمن میں صدرعلی عبداللہ صالح کے خلاف رواں برس جنوری میں شروع ہوئے عوامی مظاہروں کے بعد سے مسلمان انتہا پسند گروہوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی صوبوں میں طاقت حاصل کی ہے۔ واشنگٹن حکومت نے بھی کئی مرتبہ ایسے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اگر صدر صالح کی حکومت گرتی ہے تو اس صورت میں ایک سیاسی خلاء پیدا ہو جائے گا، جس سے انتہا پسند عناصر کو فائدہ ہو گا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے یمنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال ترک کر دے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں مظاہرین مارے گئے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

ہیومن رائٹس کونسل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر صدر صالح کی حکومت مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھے گی، تو ملک شدید خانہ جنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی صورتحال کے جائزے کے لیے غیر جانبدارانہ  چھان بین کرائی جائے۔

Jemen Präsident Ali Abdullah Saleh NO FLASH

گزشتہ 33 برس سے برسر اقتدار یمنی صدر علی عبداللہ صالح

عالمی ادارے کی انسانی حقوق کی کونسل نے یمن میں انسانی حقوق کی صورتحال جاننے کے لیے جولائی میں اپنی ایک تین رکنی ٹیم وہاں بھیجی تھی، جس نے وہاں وسیع پیمانے پر تشدد آمیز واقعات کا مشاہدہ کیا اور بعد ازاں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یمن میں بچوں کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں یمنی اپوزیشن پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس