1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں اقتدار کی منتقلی کا سمجھوتہ جلد متوقع

یمنی حکام نے منگل کو بتایا کہ خلیجی عرب ممالک کی ثالثی میں ایک ایسے سمجھوتے کو ایک ہفتے کے اندر اندر حتمی شکل دی جا سکتی ہے، جس کا تعلق صدر علی عبد اللہ صالح کے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانے سے ہو گا۔

یمن میں جاری مظاہرے

یمن میں جاری مظاہرے

ایک یمنی حکومتی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’یمنی حکومت اور اپوزیشن کے وفود آئندہ پیر کو ریاض میں ایک سمجھوتے پر دستخط کریں گے‘‘۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کی جانب سے اِس امر کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ اُن کے نمائندے بدھ کو سعودی دارالحکومت ریاض جا رہے ہیں۔

چھ ممالک پر مشتمل خلیجی تعاون کونسل GCC کی ثالثی میں طے پانے والے اِس سمجھوتے کا بنیادی مقصد صدر علی عبد اللہ صالح کی اقتدار سے رخصتی اور اِس ملک میں جاری بد امنی کا خاتمہ ہے۔ واضح رہے کہ صدر صالح 1978ء سے برسرِ اقتدار چلے آ رہے ہیں اور اُن کے اِس طویل دَورِ حکومت کے خاتمے کے لیے گزشتہ تین ماہ سے جاری پُر تشدد مظاہروں میں اب تک 130 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

صدر صالح کے طویل دَورِ حکومت کے خاتمے کے لیے گزشتہ تین ماہ سے جاری پُر تشدد مظاہروں میں اب تک 130 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہی

صدر صالح کے طویل دَورِ حکومت کے خاتمے کے لیے گزشتہ تین ماہ سے جاری پُر تشدد مظاہروں میں اب تک 130 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہی

اپوزیشن رہنما محمد باسندوہ نے بتایا کہ خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی بدھ کو یمنی دارالحکومت صنعاء کا دورہ کرنے والے ہیں اور وہ اپنے ساتھ اگلے ہفتے سعودی دارالحکومت ریاض میں سمجھوتے پر دستخطوں کی تقریب کی دعوت لے کر آئیں گے۔ محمد باسندوہ یمن میں قائم ہونے والی آئندہ ممکنہ عبوری حکومت کی قیادت کے سرکردہ ترین امیدواروں میں سے ایک ہیں۔

واشنگٹن اور یمن کے بڑے ہمسایے سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ یمن میں مزید خونریزی اِس ملک میں قائم القاعدہ کے لیے اِس خطّے میں سرگرمِ عمل ہونے کے مزید امکانات پیدا کر دے گی۔ جس سمجھوتے پر آئندہ پیر کو سعودی دارالحکومت میں دستخط ہوں گے، اُس کے تحت صدر صالح کو تیس روز کے اندر اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے کہا جائے گا۔

نئے مجوزہ سمجھوتے کے تحت صدر صالح کو تیس روز کے اندر اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے کہا جائے گا

نئے مجوزہ سمجھوتے کے تحت صدر صالح کو تیس روز کے اندر اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے کہا جائے گا

ایک بیان میں خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اِس کونسل کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس آئندہ اتوار کو ریاض میں ہو گا، جس میں اِس سمجھوتے سے متعلق حتمی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

یمن عرب جزیرہ نما کا غریب ترین ملک ہے، جس کی آبادی 23 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے بیشتر عوام دو ڈالر روزانہ سے بھی کم پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ایک تہائی شہریوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس