1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

یمن: قات کے پتے کا نشہ سرطان کے خطرات

ورلڈ فوڈ پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق یمن کی 23 ملین کی آبادی کا ایک تہائی حصہ کم خوراکی کا شکار ہے۔ اقتصادیات اور ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت کے شکار اس معاشرے کے لئے قات کا استعمال سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

default

یمن میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا پتہ قات

دنیا کے تقریباً ہر خطے میں مردوں اور خواتین دونوں ہی میں کسی نا کسی نوعیت کی نشہ آور اشیاء کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ روزمرہ زندگی کی ذمہ داریوں میں اضافہ اور معاشرتی اقدار میں آنے والی تیز رفتار تبدیلی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں پر پہلے تعلیم حاصل کرنے اور پھر روز گار کے حصول کی جدوجہد کے دوران مایوس کن صورتحال سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تاہم چند روایتی معاشروں میں خاص قسم کی نشہ آور اشیاء کا استعمال معاشرتی اقدار کا حصہ بن چکا ہے۔ ایسا ہی ایک معاشرہ یمن کا بھی ہے۔ وہاں ہر عمر کے مرد سبز رنگ کے ’قات‘ نامی پتے کا گولا سا بنا کر سارا دن منہ میں رکھتے ہیں اور اسے چباتے رہتے ہیں۔ اس پتے کے عرق کے عادی انسانوں کے لئے یہ نشہ ویسا ہی ہے جیسا کہ تمباکو کا۔ عالمی ادارہء صحت کی طرف سے قات کو منشیات ہی کی ایک قسم قرار دیا جا چکا ہے جس کا مسلسل استعمال انسانوں کو نفسیاتی طور پر اس کا عادی بنا دیتا ہے اور دیگر نشہ آور اشیاء کی طرح اس نشے سے بھی پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔

Ramadan Jemen Sanaa

یمن کا دارالحکومت صنعاء

یمن کے دارالحکومت صنعاء کی سڑکیں سفید گفتان میں ملبوس مردوں سے ہر وقت بھری نظر آتی ہیں۔ اپنا قومی لباس زیب تن کئے یہ افراد اپنے لباس کے علاوہ ایک اور وجہ سے بھی ایک دوسرے سے بہت مشابہ نظر آتے ہیں۔ ان سب کا ایک طرف کا گال ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان میں سے ہر ایک نے اپنے ایک گال میں کوئی چھوٹی سی گیند چھپا رکھی ہو۔ یہ تمام یمنی مرد دراصل اپنے منہ میں قات نامی پتے رکھے ہوتے ہیں، جو وہ ہر وقت چپاتے رہتے ہیں۔ جس طرح سلطنت برطانیہ کے دور میں سورج ڈھلتے ہی چائے کا وقت شروع ہو جایا کرتا تھا، اسی طرح یمن اور جنوبی سعودی عرب کے کچھ علاقوں میں سورج غروب ہوتے ہی مرد حضرات جگہ جگہ ٹولیاں بنا کر بیٹھے قات چباتے نظر آتے ہیں۔

Jemen Laden mit Kat in Sanaa

قات خریدنے کے لئے صنعاء کے بازار کی ایک دکان پر مردوں کا رش

قات یمن کی سرزمین پر اگنے والا ایک ایسا پودا ہے، جس کے پتوں میں ہلکا سا نشہ آور مادہ پایا جاتا ہے۔ اس پودے کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یمن کا شمار دنیا میں خوراک کی شدید کمی کے شکار دس بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق یمن کی 23 ملین کی آبادی کا ایک تہائی حصہ کم خوراکی کا شکار ہے۔ اقتصادیات اور ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت کے شکار اس معاشرے کے لئے قات کا استعمال سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے انفارمیشن نیٹ ورک IRIN کے مطابق یمن میں سرطان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ وہاں کینسر کے زیادہ تر واقعات میں مریض منہ اور مسوڑوں میں ایسی رسولیوں کے شکار ہو جاتے ہیں، جو قات کے مسلسل استعمال کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہء صحت کی طرف سے قات کے مضر اثرات کے بارے میں انتباہ کے باوجود یمنی باشندے ان نشہ آور پتوں کے استعمال کو برا نہیں سمجھتے۔ حالانکہ WHO نے قات کو ایک نشہ آور مادہ بھی قرار دے رکھا ہے لیکن یہ لعنت بری طرح پھیلتی ہی جا رہی ہے۔

Ramadan Jemen Sanaa

قات چبانا یمنی مردوں کی ایک قدیم معاشرتی روایت ہے

سعید عبدو ایک 47 سالہ ٹیکسی ڈرائیور ہے، جس کا کہنا ہے کہ قات نشہ آور شے نہیں ہے بلکہ یہ مردوں کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ سعید عبدو کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ اور نفسیاتی دباؤ والا کام کرنے والے مردوں کو قات بہت راحت پہنچاتا ہے، خاص طور سے رات کے وقت ٹیکسی چلانے والوں کو چوکنا رہنے میں قات بہت مدد دیتا ہے۔

خوراک کی کمی کے شکار یمنی معاشرے میں کسان کافی کے بیجوں اور گندم کے بجائے قات کی کاشت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے یمن میں زرعی مقاصد کے لئے آبی ذخائر کا تقریباﹰ نصف حصہ قات کی کاشت پر صرف ہو جاتا ہے حالانکہ یمن کی زیادہ تر زمین بنجر ہے۔

گزشتہ 15 برسوں سے قات کے خلاف مہم جاری ہے اور یمنی مردوں کو قات کے استعمال پر قابو پانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ ان کوششوں کے باوجود اس نشہ آور پتے کے عادی افراد اس کا استعمال کسی بھی صورت ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس