1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن: فائر بندی کے باوجود کم از کم 16 افراد ہلاک

بدھ 21 ستمبر کو یمنی دارالحکومت صنعاء میں فائر بندی کا وقفہ زیادہ طویل ثابت نہیں ہوا اور صدر علی عبد اللہ صالح کے وفادار دستوں اور حکومت مخالف فوجی یونٹوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں کم از کم سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

نشریاتی ادارے العربیہ نے یمنی دارالحکومت کے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارٹر گولے اُن ہزاروں سوگواروں پر آ کر گرے، جو دو روز کے پُر تشدد واقعات میں مرنے والوں کے جنازے میں شریک تھے۔ ان گولوں کی زَد میں آ کر سولہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت مخالف جنرل علی محسن الاحمر کی قیادت میں سرگرم عمل باغی آرمرڈ ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر حکومتی فورسز کی شدید گولہ باری کی زَد میں آیا، جس کے نتیجے میں دو شہریوں سمیت سات افراد ہلاک اور دَس زخمی ہو گئے۔

الاحمر فوج سے الگ ہو کر جمہوریت کی حامی اپوزیشن سے مل چکے ہیں۔ اُن کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حکومتی فورسز کو ’فائر بندی کی خلاف ورزی‘ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ’یہ حالات فوجی اعتبار سے مزید شدت پیدا کرنے اور ایک ایسی صورت حال مسلط کرنے کی کوشش ہے، جس سے محاذ آرائی کو ہوا ملے۔‘‘ الاحمر کے ان الزامات کے جواب میں کوئی سرکاری رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

Superteaser NO FLASH Jemen Polizei gegen Anti-Regierung Demonstration in Sanaa Verletze

یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوام مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں

العربیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ بدھ کی جھڑپوں کے بعد صالح کے حامی دستوں نے صنعاء کو جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے لوگوں کو شہر میں داخل ہونے یا شہر سے باہر نکلنے سے روک دیا۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق اتوار سے یمن میں اور خاص طور پر دارالحکومت صنعاء میں جاری جھڑپوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ جھڑپیں اُس وقت شروع ہوئیں، جب اپوزیشن کو یہ پتہ چلا کہ صدر صالح نے اقتدار چھوڑنے کا ایک منصوبہ رَد کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں ’حد سے زیادہ تشدد‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق یمنی ہلال احمر سوسائٹی کے کارکنان کو صنعاء کے ایک ہسپتال میں زخمیوں سے ملنے نہیں دیا گیا اور اُن کا ساز و سامان بھی چھین لیا گیا۔

تازہ فائر بندی امریکی اور برطانوی سفارتکاروں کی ثالثی میں نائب صدر عابد ربو منصور ہادی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔ دریں اثناء ایسا لگتا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل اور اقوام متحدہ کے ثالثوں کو بھی مزید اس بات کا یقین نہیں رہا ہے کہ وہ اپوزیشن اور حکومت کو کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے قائل کر سکیں گے۔

یمنی سرکاری خبر ایجنسی SABA کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف بن راشد الزایانی بدھ کو یمنی نائب صدر کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد غیر متوقع طور پر یمن چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس