1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن: عرب اتحادی فورسز کی بمباری، کم ازکم 45 افراد ہلاک

سعودی عرب کی اتحادی فورسز کی جانب سے یمن کے علاقے الحدیدہ کی ایک جیل پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں کم از کم پینتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اتحادی فورسز نے، جس وقت یہ حملہ کیا، اس وقت جیل میں چوراسی قیدی موجود تھے۔

یمن سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اتحادی فورسز کے اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق طبی حلقوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے قیدیوں کے رشتہ داروں نے بھی کی ہے۔ اتحادی فورسز کے لڑاکا طیاروں نے ہفتہ انتیس اکتوبر کی شام جیل پر کم از کم تین مرتبہ حملے کیے۔  تقریبا چالیس ہزار نفوس پر مشتمل ساحلی شہر الحدیدہ پر یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کا کنٹرول ہے۔

ان تازہ حملوں کے بارے میں عرب اتحادی فورسز کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس واقعے سے پہلے ہفتے کے روز  یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کی ایک رہائشی عمارت پر بھی اتحادی فورسز کے ایک حملے میں کم از کم سترہ افراد مارے گئے تھے۔

سن 2014 میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربه منصور ہادی کو اقتدار سے نکال دیا تھا جبکہ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والی عرب فورسز نے ہادی کی حکومت کی بحالی کے لیے حوثی باغیوں کے خلاف جنگ شروع کر دی تھی۔

ہفتے کے روز اقوام متحدہ نے یمن کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا کہ لیکن جلاوطن رہنما ہادی نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ اس سے مزید خون خرابہ، تباہی اور جنگ ہوگی۔ گزشتہ روز سعودی شہر ریاض میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے گفتگو کرتے ہوئے  منصور ہادی کا کہنا تھا، ’’اس منصوبے سے باغیوں کو مزید مراعات حاصل ہوں گی اور یمنی عوام کے حقوق کی حق تلفی۔‘‘

نیوز ایجنسی روئٹرز کی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے اس نئے امن منصوبے میں ہادی کو اقتدار سے الگ رکھنے اور ان کی جگہ غیر متنازعہ شخصیات کو حکومت میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

یمن کا شمار عرب کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس ملک میں جنگ کے آغاز سے اب تک دس ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریباﹰ تیس لاکھ بنتی ہے۔

 

DW.COM