1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن: عبوری حکومت نے حلف اٹھا لیا، خدشات برقرار

کئی مہینوں کی بدامنی اور ہنگاموں کے بعد یمن میں اپوزیشن قائد محمد سالم باسندوہ کی قیادت میں عبوری حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے۔ ہفتہ دَس دسمبر کو نئی حکومت میں شامل ارکان کے پہلے اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اپوزیشن قائد محمد سالم باسندوہ

اپوزیشن قائد محمد سالم باسندوہ

قومی وحدت کی کابینہ کو، جس میں اپوزیشن اور اب تک کی حکمران جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان کو یکساں تعداد میں نمائندگی حاصل ہے، کاروبارِ مملکت چلانے کا کام نائب صدر عبد الرب منصور ہادی کی جانب سے سونپا گیا ہے اور کابینہ کا پہلا اجلاس اُنہی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس عبوری حکومت کا کام یمن میں خانہ جنگی جیسے حالات کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔

قومی وحدت کی یہ حکومت طویل عرصے سے برسرِ اقتدار چلے آ رہے صدر علی عبداللہ صالح کے استعفے تک برسرِ اقتدار رہے گی۔ صدر صالح یمن کے ہمسایہ خلیجی عرب ملکوں کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت آئندہ سال فروری میں اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اِس سمجھوتے کے تحت وہ اقتدار اپنے نائب ہادی کو منتقل کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔

توکل کرمان اوسلو میں اپنا نوبل انعام برائے امن وصول کرتے ہوئے

توکل کرمان اوسلو میں اپنا نوبل انعام برائے امن وصول کرتے ہوئے

تاہم ہفتہ دَس دسمبر کو اوسلو میں اپنا نوبل انعام برائے امن وصول کرنے والی یمنی خاتون صحافی توکل کرمان نے خبردار کیا ہے کہ صالح اقتدار چھوڑنے کے سلسلے میں اپنا وعدہ پورا کرنے کی بجائے جنگ کا راستہ اختیار کریں گے۔ 32 سالہ توکل کرمان نے عالمی برادری کو اِس بناء پر سخت الفاظ میں ہدفِ تنقید بنایا کہ وہ یمن کی جمہوری تحریک کو مدد فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

کرمان نے خلیجی تعاون کونسل کی ثالثی میں طے پانے والے اُس سمجھوتے کو بھی ہدفِ تنقید بنایا، جس کے تحت صدر صالح کو اقتدار چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو گا۔ اوسلو میں روئٹرز سے باتیں کرتے ہوئے کرمان نے کہا، ’’اِن (عرب رہنماؤں) کو بین الاقوامی تعزیری عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اِن قاتلوں کے ساتھ، جو عوام کے منہ سے نوالا چھین رہے ہیں، کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے‘‘۔

کابینہ میں اپوزیشن اور اب تک کی حکمران جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان کو یکساں تعداد میں نمائندگی حاصل ہے

کابینہ میں اپوزیشن اور اب تک کی حکمران جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان کو یکساں تعداد میں نمائندگی حاصل ہے

اگر یمن میں 33 برسوں سے برسرِ اقتدار چلے آ رہے علی عبداللہ صالح درحقیقت اپنے وعدے کے مطابق فروری میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے تو وہ تیونس، مصر اور لیبیا کے بعد عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہونے پر مجبور ہو جانے والے اگلے عرب حکمران ہوں گے۔

عبوری حکومت کی ایک ذمہ داری کا تعلق فروری میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے ہے۔ اکیس فروری کو نائب صدر ہادی واحد امیدوار کے طور پر صدارتی انتخابات لڑیں گے۔ یمنی کابینہ کے پہلے اجلاس کے دوران بھی یمن میں پُر تشدد کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور جنوبی یمن اور دارالحکومت صنعاء میں صدر صالح کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں گیارہ جنگجو اور تین فوجی ہلاک ہو گئے۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس