1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن: صدرعبداللہ صالح بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے خواہشمند

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کو بات چیت کے زریعے حل کرناچاہتے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے خلیجی ممالک کی مصالحتی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

default

خلیجی ممالک کی اشتراکی کونسل (GCC) سے تعلق رکھنے والے ممالک کے وزراء خارجہ نے اتوار کے روز صدر صالح پر زور دیا کہ وہ ملک میں عبوری اتحادی حکومت بنانے کے لیے نائب صدر اور اپوزیشن جماعتوں کو طاقت منتقل کر دیں ۔

دوسری جانب آج پیر کے روز صدر صالح نے کہا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل بات چیت کے ذریعے ڈھونڈنے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم وہ اقتدار چھوڑنے پر تاحال آمادہ نظر نہیں آتے۔

NO FLASH Jemen Jubel Ägypten Mubarak Rücktritt

یمن میں عوام صدر سے فوری استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں

میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یہ صدارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں کی تعداد میں حکومت مخالف مظاہرین صدر علی عبداللہ صالح سے فوری استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اب تک مظاہرین کا سب سے بڑا اجتماع دارالخلافہ صنعاء اور ملک کے جنوبی شہر تائز میں دیکھے گئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ صدر صالح اور ملک کے اعلیٰ سکیورٹی اور سیاسی عہدوں پر فائز ان کے بیٹوں کے خلاف قانونی کاروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔

NO FLASH Der Präsident von Jemen Ali Abdullah Saleh

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

ادھر GCCکے وزراء نے یمن کی حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اس ملاقات میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد یمن کے اتحاد، حفاظت اور استحکام کے تحفظ کے لیے کسی معاہدے کو طے کرنا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت بنائی جانے والی قومی اتحادی حکومت کے پاس سیاسی، معاشی اور سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کے اختیار کے علاوہ ملک کا نیا آئین بنانے اور الیکشن کروانے کا اختیار بھی ہو گا۔

تاہم اپوزیشن نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں صدر صالح کی برطرفی کا ذکر نہ ہو۔

رپورٹ:عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحق

DW.COM