1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی مظاہرین کا صدر صالح کی مخالفت شدید تر کر دینے کا عزم

یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے عشروں سے بر سر اقتدار صالح کے عنقریب مستعفی ہو جانے کے وعدے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا احتجاج آئندہ دنوں میں شدید تر کر دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

default

علی عبداللہ صالح نے ابھی کل ہفتہ کے روز ہی یہ وعدہ کیا تھا اور یمن میں حکمران جماعت نے بھی ملک میں جاری بد امنی اور عوامی احتجاجی لہر کے خاتمے کے لیے عرب ریاستوں کی خلیجی تعاون کی کونسل کے اس منصوبے کی منظوری دے دی تھی کہ اپوزیشن کے ساتھ تحریری معاہدہ طے پا جانے کے ایک ماہ کے اندر اندر صدر صالح مستعفی ہو جائیں گے اور سربراہ مملکت کی ذمہ داریاں نائب صدر کے حوالے کر دیں گے۔

لیکن انتہائی غربت کے شکار یمن میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مظاہرے کرنے والے عوام، خاص کر اپوزیشن کارکنوں کو شبہ ہے کہ قریب 33 برسوں سے بر سر اقتدار صدر، بالخصوص اپنے قریبی معتمدین کے ساتھ مل کر اس وعدے پر عملدرآمد سے بچنے کا بھی کوئی راستہ نکال لیں گے۔

اسی لیے اگرچہ یمنی اپوزیشن بھی خلیجی تعاون کی کونسل کے منصوبے کو اصولی طور پر منظور کر چکی ہے تاہم اپوزیشن کے نوجوان اور زیادہ پرجوش کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بھی کافی نا امیدی پائی جاتی ہے کہ اپوزیشن نے عرب ریاستوں کے پیش کردہ اس ثالثی حل کو تسلیم کر لیا۔ملکی دارالحکومت صنعاء اور کئی دیگر شہروں میں اپوزیشن کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے دم توڑ جانے کا انتظار نہیں کریں گے اور نہ انہیں یقین ہے کہ اس منصوبے کے تحت جمہوری اصلاحات سے متعلق ان کی خواہش پوری ہو گی۔

Jemen / Demonstranten / Saleh

یمن میں ایک حکومت مخالف مظاہرے کا منظر

بحیرہء احمر کے بندرگاہی شہر حدیدہ میں صدر صالح کے خلاف قومی سطح کی عوامی احتجاجی تحریک کے ایک مقامی رہنما عبدالحافظ معجب نے کہا کہ یمنی عوام علی عبداللہ صالح کے خلاف اپنا احتجاج اس لیے اور بھی شدید کر دیں گے کہ صدر کو فوری استعفے پر مجبور کیا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ یمن میں صدر کی طرف سے کل ہفتہ کے روز کیے گئے ان کے عنقریب استعفے کے وعدے کے باوجود آج اتوار کو اپوزیشن کے احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ سڑکوں پر مظاہرے کرنے والے عام شہریوں نے صدر صالح کی اقتدار سے رخصتی کے مجوزہ منصوبے کو رد کر دیا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM