1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی صدر کا ٹیلی وژن پر خطاب، اقتدار میں شراکت کی پیشکش

قریب ایک ماہ قبل ایک حملے میں شدید زخمی ہو جانے والے یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب میں اپنے علاج کے دوران پہلی مرتبہ کچھ دیر کے لیے یمنی ٹیلی وژن پر اپنے ہم وطنوں سے خطاب کیا۔

default

اس موقع پر کئی عشروں سے بر سر قتدار یمن کے اس متنازعہ سربراہ مملکت نے کہا کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک ہسپتال میں علاج کے دوران اب تک ان کے آٹھ آپریشن ہو چکے ہیں، جو سبھی کامیاب رہے ہیں۔ اس دوران علی عبداللہ صالح نے اپنی ممکنہ وطن واپسی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے ہم وطنوں سے یہ ضرور کہا کہ انہیں ملک میں ایک جامع مکالمت کا آغاز کرنا چاہیے۔

صدر صالح جون کے اوائل میں صنعاء کے صدارتی محل پر حملے کے دوران محل کے اندر ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کے دوران صدارتی محل کے کمپاؤنڈ پر کل تین بم گرے تھے۔

صنعاء اور عدن سے ملنے والی مختلف خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اپنے اس خطاب میں علی عبداللہ صالح نے اپنی اقتدار سے علٰیحدگی کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن عناصر کو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ ریاستی آئین کے دائرہء کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے ناقدین کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری پر بھی تیار ہیں۔

NO FLASH Ali Abdullah Saleh

یمنی صدر کی حالیہ تصویر

یمنی ٹیلی وژن پر ملکی عوام سے خطاب کے دوران صدر علی عبداللہ صالح کے چہرے پر ایسے بہت سے نشانات بھی دیکھے جا سکتے تھے، جو اس بات کا ثبوت تھے کہ قریب ایک ماہ قبل صنعاء میں بم حملے کے نتیجے میں ان کا چہری بری طرح جھلس گیا تھا۔ ان کی یہ مختصر تقریر کوئی براہ راست خطاب نہیں بلکہ ایک ریکارڈ شدہ تقریر تھی، جس دوران ان کے چہرے کے علاوہ بازوؤں اور ہاتھوں پر بندھی پٹیاں بھی نظر آ رہی تھیں۔

شدید زخمی ہو جانے کے بعد علاج کے لیے فوری طور پر سعودی عرب پہنچ جانے والے صدر صالح نے کہا، ’’ہم اقتدار میں شرکت کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یمن میں تمام سیاسی جماعتیں اس عمل میں شامل ہوں۔ چاہے وہ حزب اقتدار سے تعلق رکھتی ہوں یا حزب اختلاف سے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اقتدار میں یہ شراکت ایک ایسے پروگرام کی روشنی میں عمل میں آئے گی، جس پر عوام بھی متفق ہوں۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM