1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی صدرعلی عبداللہ صالح سعودی عرب پہنچ گئے

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان کی آمد کا مقصد اپنے زخموں کا علاج ہے۔ وہ جمعہ کے روز صنعاء میں صدارتی محل پر ہونے والے حملے کے دوران زخمی ہوگئے تھے۔

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

سعودی عرب کی شاہی عدالت کے مطابق: ’’یمنی صدر اپنے حکام اور بعض زخمی شہریوں کے ساتھ علاج کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔‘‘ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح ریاض کے فوجی ہوائی اڈے پر اترے۔ مزید یہ کہ ان کے سر، چہرے اور گردن پر زخموں کے نشانات دیکھے گئے۔

روئٹرز کے مطابق صدر صالح کے جہاز کے علاوہ ایک دوسرے طیارے میں قریب 35 دیگر زخمی افراد بھی ریاض پہنچے ہیں۔ مزید یہ کہ ایک تیسرا طیارہ دیگر افراد کو لے کر جلد ریاض پہنچنے والا ہے۔ صدر صالح کے ساتھ ریاض پہنچنے والے قافلے کو دیکھ کر خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ اب اپنے ملک یمن واپس نہ جائیں، جہاں وہ تین دہائیوں تک حکمرانی کرچکے ہیں۔

صدر صالح کی پلاسٹک سرجری بھی کی جائے گی

صدر صالح کی پلاسٹک سرجری بھی کی جائے گی

متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے سیاسیات کے پروفیسر عبدالخالق عبداللہ کا صدر صالح کے سعودی عرب پہنچنے کے حوالے سے کہنا ہے: ’’ یمن میں صورتحال بہت گھمبیر ہوتی جارہی ہے اور لوگ انہیں مزید اقتدار میں قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتے لہذا ہوسکتا ہے کہ صحت کے مسائل کے تحت ان کا ملک سے نکلنا دراصل اقتدار چھوڑنے کی ہی ایک بہترین حکمت عملی ہو۔۔۔ بھلے ایسا خدا کی طرف سے ہوا ہو یا سعودی کوششوں سے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئربیس پر اترنے کے بعد علی عبداللہ صالح کو فوری طور پر ملٹری ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کی وجہ سے ان کے جسم میں پیوست تیز دھار ذرات نکالنے کے لیے صدر صالح کی سرجری سے قبل ان کے طبی ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ چہرے اور گردن پر آنے والے زخموں کے علاج کے لیے ان کی پلاسٹک سرجری بھی کی جائے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس