یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کا امن معاہدہ منظور کر لیا | حالات حاضرہ | DW | 31.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کا امن معاہدہ منظور کر لیا

حکومت نے اتوار کے روز بتایا کہ اس نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کا تجویز کردہ امن معاہدہ قبول کر لیا ہے۔ باغیوں کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا انہوں نے بھی اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔

معاہدے کی منظوری سے متعلق اعلان ریاض میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کی سربراہی سعودی حمایت یافتہ یمنی صدر منصور ہادی نے کی۔

اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’اجلاس میں اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد تنازعے کے حل اور صنعاء سے باغیوں کے انخلاء کا راستہ ہم وار ہو گیا ہے۔‘‘

کویت میں یمن کی طرف سے مذاکراتی وفد میں شامل وزیر خارجہ عبدالمالک المخلافی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کو ایک خط ارسال کر دیا ہے، جس میں یمن کی طرف سے ’کویت معاہدے‘ کی منظوری دے دی گئی ہے۔

المخلافی نے البتہ یہ ضرور کہا کہ معاہدے پر اطلاق کی ایک شرط یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی حوثی باغی سات اگست تک معاہدے پر دستخط کریں۔

باغیوں کی جانب سے اب تک اس معاہدے کے بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

فیصلہ کن مذاکرات

سترہ جولائی کو اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسمٰعیل شیخ نے یمن میں برسر پیکار متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں۔

یمن کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے دوبارہ بات چیت کا آغاز دو ہفتے قبل ہوا تھا۔ اس سے پندرہ روز قبل یمنی حکومت کے نمائندوں نے مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں زور اس بات پر تھا کہ یمن کے شیعہ حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کے نمائندے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل کریں۔

یمن میں گیارہ اپریل سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے تاہم فریقین اس کی کثرت سے خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔

پراکسی وار

حوثی باغی یمن میں اب بھی طاقت ور ہیں حالاں کہ سعودی عرب اور اُس کے اتحادی یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ابتدا گزشتہ برس چھبیس مارچ کو ہوئی تھی۔ اس فضائی کارروائی میں سعودی عرب کو اپنے خلیجی اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

امریکا اور برطانیہ بھی سعودی عرب کی کارروائی کی تائید کر چکے ہیں۔ ریاض کے مطابق ان حملوں کا مقصد یمن میں ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو روکنا اور ملک پر صدر منصور ہادی کا کنٹرول بحال کرانا ہے۔

یمن کی اس جنگ کو خطے کے بعض دیگر ممالک کی طرح ایران اور سعودی عرب کی علاقائی بالادستی کی جنگ یا ’پراکسی وار‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔