1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی حکومت اور باغیوں میں جنگ بندی

خلیجی ملک یمن میں حکومت اور شیعہ باغیوں کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے،جو جمعرات شب بارہ بجے سے نافذ العمل ہے۔

default

امن معاہدے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ صنعاء حکومت اب جنوب میں علیحدگی پسندوں اور ملک میں القاعدہ کے بڑھتے اثر ورسوخ پر قابو پانے کی کوششوں پر زیادہ توجہ دے سکے گی۔

یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر گزشتہ شب صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے شمال مغربی علاقوں میں عسکری کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس کا مقصد علاقے میں قیام امن کو یقینی بنانا، مزید خون خرابے کو روکنا اور نقل مکانی کرنے والوں کی گھروں کو واپسی ممکن بنانا ہے۔

Jemen Armee Schiiten Houti Rebellen Al Quaida Saudi-Arabien

سعودی فوج کے اہلکار یمن کی سرحد کے پاس

دوسری جانب باغیوں کے رہنما عبدالمالک بدرالدین الہوتی نے بھی جنگجوؤں کو بندوقیں خاموش کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری بیان کے جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد الہوتی نے اپنے حامیوں کو عمران اور سادا صوبے کے پہاڑوں اور سعودی عرب کے ساتھ ملحقہ سرحد سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔

کرسمس کے دن ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ آنے والی مسافر پرواز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش میں یمنی شدت پسندوں کے ملوث ہونے کا الزام ہے۔ واقعے کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی توجہ خطے کی جانب اور زیادہ ہوچکی ہے۔ یمن کے پڑوسی ملک سعودی عرب میں بھی یہ امر زیادہ تشویش کا باعث خیال کیا جاتا ہے کہ صنعاء حکومت کو درپیش متعدد نوعیت کے مسائل، اس پسماندہ ملک کو القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

Ali Abdullah Salih

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح

سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر مقیم ان باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ریاض حکومت بھی گزشتہ سال عملی طور پر شریک ہوئی جب یمنی باغیوں نے سعودی علاقوں میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یہ مسلح تنازعہ چھ سال سے زیادہ عرصے جاری رہا جس میں تینوں اطراف متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور اقوام متحدہ کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

حالیہ معاہدے کے مطابق حکومت نے باغیوں سے ان کے زیر قبضہ علاقوں میں سڑکیں کھولنے اور سعودی و یمنی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ باغیوں کو حکومتی اہلکاروں سے چھینا گیا اسلحہ واپس کرنا ہوگا، مقامی سیاست سے دور رہنا ہوگا اور سعودی عرب کے ساتھ سرحدی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ باغیوں نے ان شرائط پر عملدرآمد کو امن معاہدے کے مکمل طور پر نافذ ہوجانے سے مشروط کیا ہے۔ ان کی جانب سے مکمل جنگ بندی کی ڈیڈ لائن کے لئے مزید مہلت کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ جنگجو پہاڑی علاقوں سے نکل سکیں۔ حکومت اور شیعہ باغیوں نے معاہدے کے نفاذ کے سلسلے میں مقامی سطح پر مشترکہ کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں جو جمعہ سے کام کا آغاز کردیں گی۔

صنعاء حکومت اور شیعہ باغیوں کے مابین ماضی میں بھی دو امن معائدے ہوئے جو دیرپا ثابت نہ ہوسکے۔ باغی اپنی مسلح جدوجہد کا مقصد سماجی حقوق کے حصول اور یمنی حکومت کی مبینہ بدعنوانی کو قرار دیتے ہیں۔ یمنی حکومت کا البتہ الزام رہا ہے کہ باغیوں کی کارروائیوں کا مقصد شعیہ امامت کے نظام حکومت کا دوبارہ قیام ہے جس کا تختہ 1962ء کے جمہوری انقلاب میں الٹ دیا گیا تھا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : ندیم گل

DW.COM