1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی تنازعے میں سینکڑوں قیدیوں کا تبادلہ مکمل

یمن کے خونریز تنازعے کے فریقین نے جمعرات سترہ دسمبر کے روز سینکڑوں قیدیوں کے تبادلے کا کام مکمل کر لیا۔ اس اقدام کا مقصد جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کا قیام اور اعتماد سازی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں یمنی حکومتی وفد اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان امن مذاکرات آج جمعرات کو تیسرے روز بھی جاری ہیں، جب کہ فریقین کے درمیان فائربندی پر بھی کسی حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیرنگرانی جاری ان مذاکرات سے یہ امید لگائی جا رہی ہے کہ گزشتہ نو ماہ سے جاری اس مسلح تنازعے کا کوئی حل سامنے آ سکے گا۔

حکومتی فورسز کی قیدیوں کے معاملات کی کمیٹی کے ایک رکن مختار الرباش نے جمعرات کے روز قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’’ہم نے قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔‘‘

Jemen Aden Konvoi Kontrolle Checkpoint

اس تنازعے میں چھ ہزار سے زائد افراد لقمہء اجل بن چکے ہیں

اعتماد سازی کے لیے اس اقدام کے تحت حکومتی جیلوں میں قید 370 حوثی باغیوں کو رہا کیا گیا ہے جب کہ حوثی باغیوں نے حکومت کے حامی 285 جنگجوؤں کو رہائی دی۔

قیدیوں کا تبادلہ سابقہ شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان سرحدی صوبے لہج میں عمل میں آیا، جہاں قبائلی عمائدین بھی موجود تھے۔ الرباش نے بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے یہ عمل اس وقت سستی روی کا شکار ہو گیا تھا، جب عدن سے وسطی یمن لائے جانے والے ان قیدیوں کی سلامتی کے حوالے سے متعدد خدشات سامنے آئے تھے تاہم یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ گیا۔

صنعا میں بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی، جو اس سے قبل قیدیوں کے تبادلے میں شامل رہی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ قیدیوں کے اس نئے تبادلے کے اقدام سے واقف نہیں تھی۔

دریں اثناء جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے حوالے سے اب تک کم معلومات سامنے آئی ہیں۔ فی الحال یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ مذاکرات کب تک جاری رہیں گے۔

منگل کے روز ان مذاکرات کے آغاز کے موقع پر جنگی فریقین نے یمن بھر میں فائربندی کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اطراف نے ایک دوسرے پر فائربندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغی فائربندی کا احترام نہیں کر رہے، جس کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز المارب کے علاقے میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں جب کہ تعز شہر پر بھی حوثی باغیوں کی جانب سے شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔