1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی تنازعے میں الجزائر کا سعودی عرب کی حمایت سے انکار

شمالی افریقی عرب ریاست الجزائر نے یمنی تنازعے میں سعودی عسکری اتحاد کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں الجزائر کے صدر نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے نام پیغام میں اپنے ملک کی فوجی عدم مداخلت کی پالیسی کا حوالہ دیا۔

Jemen Luftangriffe Zerstörung

’تشدد صرف مزید تشدد کی وجہ بنتا ہے‘، الجزائر کے صدر کے مشیر بلعیز کا موقف

الجزائر کے اسی نام کے دارالحکومت سے منگل پانچ اپریل کو قومی خبر رساں ادارے اے پی ایس کے حوالے سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شمالی افریقہ کی اس مسلم ریاست نے سعودی عرب کے نام ایک پیغام میں ایک بار پھر ہر طرح کی غیر ملکی فوجی مداخلت کے خلاف اپنی قومی پالیسی کا دفاع کیا ہے۔

اس وقت الجزائر اور ریاض حکومتوں کے باہمی تعلقات میں دو بڑے موضوعات کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک تو یمن کا خونریز تنازعہ ہے اور دوسرا متعدد خلیجی ریاستوں کی طرف سے لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا متنازعہ فیصلہ۔

اے پی ایس کے مطابق الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے سعودی بادشاہ سلمان کے نام اپنے پیغام میں زور دے کر کہا ہے کہ ’عدم مداخلت الجزائر کے لیے ایک اصول ہے اور نہ کہ، جیسا کہ بظاہر لگ سکتا ہے، کوئی ایسا موقف جس کا مقصد ساتھی عرب ملکوں کی مخالفت ہو‘۔

صدر بوتفلیقہ نے اپنا یہ پیغام سعودی فرمانروا تک پہنچانے کی ذمے داری اپنے مشیر طیب بلعیز کو سونپی ہے، اور ساتھ ہی انہیں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ ملکی صدر کی طرف سے سعودی عرب کے شاہ سلمان کو الجزائر کے دورے کی دعوت بھی دیں۔

الجزائر اس سے پہلے بھی سعودی عرب کی قیادت میں قائم اس عسکری اتحاد میں شمولیت سے انکار کر چکا ہے، جو گزشتہ ایک سال سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

Abdulaziz Bouteflika Präsident Algerien ARCHIV April 2014

صدر بوتفلیقہ: سعودی عرب کو انکار بھی اور شاہ سلمان کو الجزائر کے دورے کی دعوت بھی

اس کے علاوہ الجزائر نے لبنان میں شیعہ ملیشیا گروپ حزب اللہ کے معاملے میں بھی ابھی حال ہی میں ریاض حکومت اور اس کی اتحادی خلیجی عرب ریاستوں کی ہمنوائی یا تقلید سے انکار کر دیا تھا۔ سعودی عرب اور اس کی اتحادی خلیجی ریاستیں حزب اللہ کو باقاعدہ طور پر ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے چکے ہیں مگر الجزائر ابھی بھی ایسا کرنے سے انکاری ہے۔

اس پس منظر میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے مشیر طیب بلعیز نے ملکی نیوز ایجنسی اے پی ایس کو بتایا، ’’الجزائر تنازعات کے پرامن سیاسی تصفیوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم تشدد اور طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں، جس کے باعث ہماری نظر میں پرتشدد واقعات میں صرف اضافہ ہی ہوتا ہے۔‘‘

DW.COM