1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمنی تنازعہ، قطر نے ایک ہزار فوجی روانہ کر دیے

یمن میں حوثی شیعہ ملیشیا اور علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قطر نے ایک ہزار فوجی روانہ کیے ہیں۔ یہ فوجی سعودی اتحاد کے زمینی لشکر میں شامل ہوں گے۔

جزیرہ نما عرب کے شورش زدہ ملک یمن میں پیدا مسلح تنازعے میں شریک سعودی اتحاد کی مشترکہ زمینی فوج میں قطر نے اپنے ایک ہزار فوجی شامل کر دیے ہیں۔ یمن میں حوثی شیعہ ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں پر سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں قطری جنگی طیارے پہلے ہی شامل ہے۔

قطر کے عسکری ذرائع نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ قطری فوجی حوثی ملیشیا کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی میں شریک ہونے کے لیے دوحہ سے روانہ کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطری فوجیوں نے سعودی فوجی دستوں کے ہمراہ یمنی سرحد کے مقام الوادیا بارڈر پوسٹ کو عبور کر لیا ہے۔

سعودی عرب کے سیٹلائٹ ٹیلی وژن چینل العربیہ کے مطابق قطری اور سعودی فوجی یمنی سرحد کو عبور کر چکے ہیں۔ الجزیرہ ٹیلی وژن کے مطابق قطری فوجی دو سو فوجی گاڑیوں پر دارالحکومت دوحہ سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ہمراہ امریکی ساختہ تیس اپاچی ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔ ایک سعودی اخبار الحیات کے مطابق سعودی عرب نے بھی فوج کی ایک بڑی تعداد یمن کے اندرون روانہ کی ہے اور ان میں جدید اسلحے سے لیس خصوصی دستے بھی شامل ہیں۔

Katar Soldaten Parade zum Nationalfeiertag

قطری فوجی دوحہ سے روانہ ہوتے ہوئے

الحیات اخبار کے مطابق یہ دستے یمنی مقام مارب کی جانب روانہ ہیں۔ الحیات نے یہ بھی لکھا ہے کہ صنعاء کو آزاد کروانے کے لیے فیصلہ کُن جنگ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ایسی اطلاعات گزشتہ ماہ آنا شروع ہو گئی تھیں کہ صنعاء پر قبضے کی جنگ ستمبر میں لڑی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق دارالحکومت صنعاء پر بڑے حملے کی تیاریوں کے سلسلے میں فضائی حملوں کے ساتھ زمینی فوج کو بھی متحرک کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

عسکری تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صنعاء پر قبضے کا عمل مارب کے مقام سے شروع ہو سکتا ہے کیونکہ مارب علاقے کے قبائلی سردار مسلسل حوثی شیعہ ملیشیا کے لیے سر درد بنے ہوئے ہیں۔ ان سرداروں کے مسلح ساتھی مسلسل شیعہ ملیشیا اور صالح کے حامی فوجی دستوں پر گھات لگا کر شب خون مارنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی کے حملوں سے سعودی عرب کی یمنی مزاحمتی دستوں کے لیے سپلائی لائن بحال ہے۔ قطری دارالحکومت دوحہ میں قائم برُوکنگز سینٹر کے سینیئر سیاسی تجزیہ کار ابراہیم فرحت کا کہنا ہے کہ سیاسی مفاہمت کے بغیر صنعاء کی جنگ طویل، خون ریز اور تھکا دینے والی ہو گی۔