1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم: یورپی یونین اسرائیل کا ساتھ نہیں دے گی

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کی پیروی کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے لیکن یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

پیر گیارہ دسمبر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ برسلز میں ملاقات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوا ہے، ’’حقیقت کو تسلیم کرنا امن کی بنیاد ہے۔‘‘

لیکن یورپ میں اسرائیل کے قریب ترین اتحادی ملک چیک جمہوریہ نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کے حوالے سے ایک برا فیصلہ ہے۔ دوسری جانب فرانس نے بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین طے پانے والے حتمی معاہدے میں ہی ہو گا۔

اسرائیل میں اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ لوبومیر زاورلیک کا کہنا تھا، ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ (فیصلہ) ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘

Frankreich Emmanuel Macron und Benjamin Netanyahu in Paris (Getty Images/AFP/L. Marin)

رانس نے بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین طے پانے والے حتمی معاہدے میں ہی ہو گا

اسرائیلی وزیر اعظم اپنے یورپ کے دورے کے دوران یورپی رہنماؤں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ہیں کیوں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت نہ صرف مسلم دنیا بلکہ سرکردہ یورپی رہنما بھی کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ملاقات کے بعد بھی اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا، ’’فلسطینیوں کو اب یہودی ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے اور اس حقیقت کو بھی کہ اس کا ایک دارالحکومت ہے، جسے یروشلم کہا جاتا ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا، ’’اس کے باوجود کہ ابھی کوئی معاہدہ موجود نہیں، مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یہی ہونے جا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام یا زیادہ تر یورپی ملک اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرتے ہوئے اسے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیں گے تاکہ سلامتی، خوشحالی اور امن کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔‘‘

گزشتہ ہفتے چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم  منتقل کرنے کو تیار ہے لیکن بعد میں اس یورپی ملک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف مغربی یروشلم پر ہی اسرائیلی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ 1967ء میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ نہیں سمجھتے۔ ان علاقوں میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔

چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ کا پیر کے روز ناشتے کی میز پر اسرائیلی وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ یکطرفہ فیصلوں سے کشیدگی کم کرنا ناممکن ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم اسرائیلی ریاست کی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کی بھی بات کرنا چاہیے۔‘‘

قبل ازیں فرانس نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن سے متعلق اپنے منصوبے کی وضاحت کرے کہ واشنگٹن آخر کیا چاہتا ہے؟

DW.COM