یروشلم کے حالات پر فکر مند ہوں، پوپ فرانسس | حالات حاضرہ | DW | 06.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم کے حالات پر فکر مند ہوں، پوپ فرانسس

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یروشلم کی صورت حال پر شدید فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ پوپ کے مطابق یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔

ویٹیکن میں بدھ کے روز عوام سے اپنے خطاب میں پوپ نے امید ظاہر کی ہے، ’’میں دعا کرتا ہوں کہ اس معاملے میں حکمت اور دانائی غالب آئے تاکہ پہلے سے ہی عالمی سطح پر موجود تنازعات میں کوئی نئی کشیدگی پیدا نہ ہو۔‘‘ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا نے اس موقع پر تمام حلقوں سے یروشلم کی موجوہ حیثیت اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا احترام کرنے کی درخواست کی ہے۔

پوپ نے کہا کہ یروشلم ایک منفرد شہر ہے اور یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، ’’یہ شہر امن کا ایک گہوارہ ہے۔ یروشلم کی یہ شناخت برقرار رہنی چاہیے اور اس مقدس سرزمین کے علاوہ مشرق وسطٰی کے خطے کے لیے اس شناخت کو اور بھی مضبوط کیا جانا چاہیے۔‘‘

امریکا آج یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر عالمی وقت کے مطابق شام چھ بجے یہ اعلان کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر وہ متوقع طور پر تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے عمل کا اعلان بھی کریں گے۔ عرب دنیا اور یورپ میں امریکا کے کئی اتحادی ممالک نے ٹرمپ کو اس اعلان سے باز رہنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل ایک مرتبہ اپنا یہ فیصلہ مؤخر کر چکے ہیں۔

فلسطینی علاقوں میں تمام یہودی بستیاں غیر قانونی، یورپی یونین

امریکی صدر کا یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا منصوبہ

دوسری جانب جرمن وزارت خارجہ نے یروشلم کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو تنبیہ جاری کی ہے۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ دسمبر سے یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں مظاہروں کا امکان ہے، جس دوران پر تشدد واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریل نے امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو غیر فائدہ مند قرار دیا ہے۔ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یروشلم کے مسئلے کا حل فریقین کے مابین براہ راست مذاکرات کے ذریعے کی تلاش کرنا چاہیے۔

 

DW.COM