یروشلم کی حیثیت، اقوام عالم نے امریکی فیصلہ مسترد کر دیا | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم کی حیثیت، اقوام عالم نے امریکی فیصلہ مسترد کر دیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کی حیثیت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے متعلق ہونے والی رائے شماری میں اقوام عالم کی واضح اکثریت نے امریکا کے خلاف ووٹ دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف پیش کی گئی قرارداد میں جمعرات کی شام 128 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ اس قرارداد کی مخالفت میں فقط نو ووٹ ڈالے گئے۔ اس رائے شماری میں 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا۔

نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گھر‘ قرار دے دیا

جو ملک مخالفت کرے گا، اس کی امداد روک دیں گے، ٹرمپ

یروشلم: اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہو گا

رائے شماری سے قبل اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نِکی ہیلی نے خبردار کیا تھا کہ وہ ان تمام ممالک کے نام صدر ٹرمپ کو بتائیں گی، جو اس قرارداد میں امریکا کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔  نِکی ہیلی نے کہا تھا کہ امریکا کے خلاف ووٹ ڈالنے والے تمام ممالک کی امداد بند کر دی جائے گی۔ تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوامِ عالم کی واضح اکثریت نے اس امریکی دھمکی کو نظرانداز کر دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد پر عمل درآمد لازم تو نہیں، تاہم اس قرارداد نے واضح انداز سے امریکی فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، جو فلسطینیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

193 رکنی جنرل اسمبلی میں تاہم 35 ممالک نے اس رائے شماری میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کیا جب کہ 21 ممالک غیرحاضر رہے۔ اس قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ کے اس موقف کی حمایت ہوتی ہے، جو سن 1967 سے اس منقسم شہر سے متعلق اقوام عالم کا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا حتمی فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔

اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے واضح انداز سے کہا تھا کہ جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کا اس کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس قرارداد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اس ’فضول قرارداد‘ کو مسترد کرتے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اس قرارداد کو فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی فقط فلسطینیوں کی ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر نِکی ہیلی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود فقط سات ممالک کو امریکی اور اسرائیلی موقف پر رضامند کر سکیں، جو ان کی ’واضح ناکامی‘ ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:56
Now live
02:56 منٹ

یروشلم کے معاملے پر یورپی رد عمل

انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کو ناکام بنانے کے لیے امریکا نے بھرپور کوششیں کیں اور سفارتی ذرائع کے ساتھ ساتھ ’بلیک میلنگ اور حقائق کو مسخ‘ کرنے تک جیسے طریقے آزمائے۔ واضح رہے کہ نِکی ہیلی نے اس قرارداد سے قبل 180 ممالک کو خطوط لکھے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے امریکا کے خلاف ووٹ ڈالا، تو ان کی امداد بن کر دی جائے گی اور انہیں دیگر نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic