1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم میں ٹرک حملے میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک، پندرہ زخمی

یروشلم میں ایک فلسطینی ڈرائیور کی طرف سے اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر ٹرک چڑھا دیے جانے کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق مارا جانے والا حملہ آور داعش کا حامی تھا۔

یروشلم سے اتوار آٹھ جنوری کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اتوار کے روز یروشلم میں ایک فلسطینی ٹرک ڈرائیور نے اپنا ٹرک اس وقت اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر چڑھا دیا، جب وہ ایک بس سے اتر رہے تھے۔

اس ڈرائیور کو موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ طبی ذرائع کے مطابق اس حملے میں، جسے بعد ازاں اسرائیلی حکام نے ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا، چار اسرائیلی فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔

تل ابیب میں فلسطینی کا چاقو سے حملہ، دو اسرائیلی ہلاک

اسرائیلی فوجی قافلے پر حزب اللہ کا حملہ

چاقو سے حملہ کرنے والی فلسطینی خاتون زخمی

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اسرائیل میں فلسطینیوں کے مسلح حملوں کی موجودہ لہر کے دوران گزشتہ ایک برس کے عرصے میں کیا جانے والا یہ سب سے خونریز اور ہلاکت خیز حملہ تھا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل ٹو ٹی وی کی طرف سے نشرکردہ سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کے مطابق حملہ آور فلسطینی نے یروشلم شہر کے آرمون ہاناتزیو نامی علاقے میں بڑی تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنا ٹرک یکدم سڑک سے ہٹا کر اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر چڑھا دیا۔

اس دوران ڈرائیور نے جلدی میں اس ٹرک کو دوبارہ کچھ پیچھے لے جانے کی کوشش بھی کی تاکہ وہ مزید اسرائیلی فوجیوں کو کچل سکتا لیکن اسی دوران سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

Israel Vier israelische Soldaten bei Lkw-Anschlag in Jerusalem getötet (REUTERS/R. Zvulun)

اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گئے

اسرائیلی پولیس کے سربراہ رونی الشیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور کا تعلق مشرقی یروشلم کے عرب آبادی والے علاقے سے تھا اور ملکی سکیورٹی فورسز کو کوئی خفیہ اطلاع نہیں ملی تھی کہ ایسا کوئی حملہ کیا جا سکتا تھا۔

اسرائیلی ریسکیو سروس ایم ڈی اے کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں فوجی تھے، جن میں سے تین خواتین تھیں اور ایک مرد اور ان کی عمریں بیس اور تیس برس کے درمیان تھیں۔ پندرہ زخمیوں میں سے چند شدید زخمی ہیں اور ان میں سے بھی ایک کی حالت انتہائی نازک بتائی گئی ہے۔

اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ مارا جانے والا ٹرک ڈرائیور ایک ایسا مقامی عرب حملہ آور تھا، جو ممکنہ طور پر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا حامی تھا۔

نیتن یاہو نے اس حملے کے بعد جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ہم حملہ آور کی شناخت سے آگاہ ہیں۔ اب تک دستیاب حقائق اور شواہد کے مطابق وہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا حمایتی تھا اور اس کے رہائشی علاقے کی ناکہ بندی کی جا چکی ہے۔‘‘

Israel LKW-Anschlag in Jerusalem (Getty Images/AFP/A. Gharabli)

اس ڈرائیور کو موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دی

اسی دوران شدت پسند فلسطینی تنظیم حماس نے یروشلم میں حملہ کرنے والے فلسطینی ٹرک ڈرائیور کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی حماس کی طرف سے دی جانے والی اس کال کو نظر انداز نہیں  کر رہے کہ انہیں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔

حماس کے ایک ترجمان نے کہا، ’یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے حملے ختم نہیں ہوئے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ وقفہ آیا ہو۔ لیکن ایسے حملے جاری رہیں گے۔ وہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے۔‘‘

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ستمبر 2015ء سے اب تک عسکریت پسند فلسطینی حملہ آوروں کی طرف سے اسرائیلیوں پر چاقوؤں سے حملے کرنے یا ان پر اپنی گاڑیاں چڑھا دینے کے جتنے بھی واقعات پیش آ چکے ہیں، ان میں تاحال دو امریکی شہریوں کے علاوہ 40 اسرائیلی بھی مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی عرصے میں اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایسے 230 فلسطینی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

DW.COM